Urdu book · اوراقِ حکمت

اوراقِ حکمت

Urdu book, p. 219

By Maulana Wahiduddin Khan

کہ جہاں آپ جاتے اس کے یہاں کوئی ایک سالن ہوتا تھا۔ میزبان شرمندگی کے ساتھ "جو کھانا موجود ہو"، وہ لے آتا۔ آپ شرافت کے تقاضے کے تحت فرماتے کہ یہ تو بہترین کھانا ہے، اور پھر شوق سے اس کو کھانے لگتے۔ اس طرح کے تمام کلمات میزبان کی حوصلہ افزائی کے کلمات ہیں، نہ کہ کھانے کے بارے میں اپنی پسندیدگی بتانے کے کلمات۔ 6 دسمبر 1985 عربی زبان کی باریکیوں سے ایک انسان واقف نہ ہو تو کیسی کیسی غلطی کر سکتا ہے، اس کو ایک مثال سے سمجھا جا سکتا ہے۔ قرآن میں ارشاد ہوا ہے: وَأَنَّ اللَّهَ لَيْسَ بِظَلَّامٍ لِلْعَبِيدِ (3:182)۔ یعنی اور اللہ اپنے بندوں کے ساتھ ناانصافی کرنے والا نہیں۔ بعض لوگ اس کا مطلب یہ بتاتے ہیں کہ خدا از یادہ بڑا ظالم نہیں، یعنی وہ چھوٹے درجہ کا ظلم کر سکتا ہے۔ البتہ وہ بڑے درجہ کا ظلم کرنے والا نہیں۔ کیوں کہ آیت میں ظلام کا لفظ آیا ہوا ہے، جس کا لفظی مطلب ہے بہت ظلم کرنے والا۔ مگر آیت کا یہ مطلب نہیں۔ نحو (عربی گرامر) کا یہ اصول ہے کہ نفی (negative) کے بعد جب مبالغہ آتا ہے تو سارا زور نفی (انکارِ عمل) کے لیے ہوتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ ذرا بھی ظلم کرنے والا نہیں، نہ یہ کہ اللہ بڑا ظلم کرنے والا نہیں۔ 7 دسمبر 1985 ایک صاحب کے خط کا جواب دیتے ہوئے یہ چند سطریں لکھیں: اللہ تعالیٰ کے یہاں اصل قیمت کیفیت (quality) کی ہے، نہ کہ کمیت (quantity) کی۔ زندگی کے چند لمحات بھی اگر اللہ کی معرفت میں گزر جائیں تو، ان شاء اللہ، آخرت میں بھی اللہ کا پڑوس نصیب ہوگا، اور اللہ کے پڑوس ہی کا دوسرا نام جنت ہے (التحريم، 66:11)۔ الرسالہ میں فرقہ وارانہ فساد کے مسئلہ پر جب تبصرہ کیا جاتا ہے تو یک طرفہ طور پر صرف

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page