اوراقِ حکمت
Urdu book, p. 220
By Maulana Wahiduddin Khan
مسلمانوں کی کوتاہی کا ذکر کیا جاتا ہے۔ اس پر ایک صاحب نے کہا کہ یہ انداز انصاف کے خلاف ہے۔ آپ کو دونوں طرف کی غلطیاں اور کوتاہیاں بتانا چاہیے۔ میں نے کہا کہ ظاہری اعتبار سے دیکھنے میں آپ کی بات درست معلوم ہوتی ہے۔ مگر اصلاح اور تربیت کے اعتبار سے یہ غیر مفید بلکہ نقصان دہ ہے۔ اگر ہم یہ کہیں کہ یہ پچاس فی صد اور پچاس فی صد کا معاملہ ہے۔ یعنی نصف غلطی ایک فریق کی ہے اور نصف غلطی دوسرے فریق کی ہے، تو اس طرح فوکس بدل جائے گا۔ مسلمان 50 فی صد یا اس سے کم ہی اپنی کوتاہیوں پر اپنا دھیان جما سکیں گے۔ اس لیے داعی اور مصلح یہ کرتا ہے کہ وہ صرف ایک ہی فریق کی کوتاہیوں کو بیان کرتا ہے تا کہ فوکس نہ بدلے اور اس کی ساری توجہ اپنے احتساب اور اصلاح پر لگ جائے۔ قرآن کا طریقہ یہی ہے۔ چنانچہ وہ فریقِ ثانی کی سازشوں اور مظالم کو غیر مذکور چھوڑ کر صرف مسلمانوں کی کوتاہیوں پر انھیں توجہ دلاتا ہے جس کی ایک مثال احد (3:155) اور حنین (9:25) کے بارے میں قرآن کا تبصرہ ہے۔ 10 دسمبر 1985 جب بھی کوئی اقدام کیا جائے تو ہمیشہ یہ دیکھنا چاہیے کہ وہ نتیجہ خیز (productive) ہے یا نہیں۔ اقدام ہمیشہ کسی نتیجہ کے لیے ہوتا ہے، نہ کہ محض اقدام برائے اقدام۔ بے فائدہ اقدام نہ کرنا بھی ایک مفید عمل ہے۔ کیوں کہ اس سے قوتیں محفوظ رہتی ہیں اور اس کا امکان باقی رہتا ہے کہ وہ کسی نتیجہ خیز منصوبہ میں استعمال ہوسکیں۔ انسان ہمیشہ کچھ کرنا چاہتا ہے۔ جب تخریبی کارروائیاں بند ہوتی ہیں اس وقت تعمیری سرگرمیاں شروع ہو جاتی ہیں۔ غلط اقدامات کی طرف دوڑانے والے لیڈر اگر خاموش بیٹھے رہیں تب بھی وہ ایک فائدہ پہنچائیں گے۔ وہ قوم کو غلط رخ پر نہ دوڑا کر اسے موقع دیں گے کہ وہ اپنی فطرت کے زور پر مفید اور صالح رخ پر اپنا سفر جاری کر سکے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader