Urdu book · اوراقِ حکمت

اوراقِ حکمت

Urdu book, p. 221

By Maulana Wahiduddin Khan

خیرالدین پاشا باربروسہ (Hayreddin Barbarossa, b. 1466) سمندری جہاز رانی کا بہت بڑا ماہر تھا اور نہایت بہادر آدمی تھا۔ اس کو امیر البحر کہا جاتا تھا۔ سولھویں صدی عیسوی میں ترکی کے عثمانی سلطنت کے بحری بیڑے کو جو عظمت حاصل ہوئی اس کا اصل ہیرو یہی شخص تھا۔ کہا جاتا ہے کہ خیرالدین باربروسہ اپنے زمانے کا سب سے بڑا امیر البحر تھا۔ اس کی مہارت اور بہادرانہ کارروائیوں کا نتیجہ یہ ہوا کہ مشرق سے مغرب تک ترکی بیڑے کا راج قائم ہو گیا۔ خیرالدین باربروسہ نے تقریباً اسّی سال کی عمر میں جولائی 1546 میں وفات پائی۔ اس کو بشک طاشی (Beşiktaş) میں دفن کیا گیا۔ اس کی قبر پر جو کتبہ لگا ہوا ہے اس میں یہ الفاظ لکھے ہوئے ہیں— مات امیر البحر یعنی وہ شخص جو امیر البحر تھا اس کا انتقال ہو گیا۔ یہ ایک واقعی بیان ہے۔ یہ چار سو سال پہلے مسلمانوں کا حال تھا۔ آج کوئی مسلمان مرے تو اس کی قبر پر لکھنے کے لیے اس قسم کے واقعی الفاظ کسی کو نہیں ملیں گے۔ بلکہ وہ غیر واقعی قصیدہ خوانی کریں گے، اور کہیں گے کہ مثلاً امیر فضا اس دنیا سے چلا گیا۔ اگر چہ وہ حقیقت کے اعتبار سے ویسا نہ ہو۔ کتنا فرق ہے مسلمانوں کے حال میں اور مسلمانوں کے ماضی میں۔ 12 دسمبر 1985 اردو زبان ایک لٹریری زبان کی حیثیت سے مغل دور میں دہلی کے آس پاس علاقے میں ظاہر ہوئی۔ 1835 میں جب فارسی بطور آفیشیل لینگویج کے ختم ہو گئی تو اس کے بعد اردو نے تیزی سے ترقی کرنا شروع کیا۔ یہ زمانہ اتفاق سے وہی ہے، جب کہ دوسری قوموں نے مسلمانوں سے ان کا pride چھینا تھا، اور وہ ان سے لڑنے بھڑنے میں مصروف تھے۔ قدرتی طور پر اس

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page