Urdu book · اوراقِ حکمت

اوراقِ حکمت

Urdu book, p. 222

By Maulana Wahiduddin Khan

صورت حال کا reflection اردو زبان پر ہوا۔ اردو زبان ”ٹکراؤ“ کی زبان بن گئی۔ یہی وجہ ہے کہ اردو زبان میں کنفرنٹیشن (confrontation) کے مفہوم کو ظاہر کرنے کے لیے بے شمار الفاظ ہیں مگر ایڈ جسٹمنٹ (adjustment) کے مفہوم کو بتانے کے لیے کوئی ایک بھی بامعنی لفظ نہیں۔ آدمی الفاظ کے ذریعے سوچتا ہے۔ جس زبان میں سوچنے کے لیے adjustment کے ہم معنی لفظ ہی نہ ہو، وہ کیوں کر زیادہ صحت کے ساتھ adjustment کی پالیسی پر غور کر سکتا ہے۔ اردو اسپیکنگ کمیونٹی کی یہی بنیادی کمزوری ہے، جس کی بنا پر وہ ہر جگہ اپنے پڑوسیوں سے لڑرہے ہیں، خواہ وہ پڑوسی مسلم ہوں یا غیر مسلم۔ 13 دسمبر 1985 ( مَنْ يُوصَفُ بِالْخَلِيفَة ) اسلام میں خلیفہ کے تقرر کا کوئی ایک متعین اصول نہیں ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت ابوبکر کی صفات (اہلیت) کا پورا علم تھا۔ مگر آپ نے حضرت ابوبکر کو صراحۃً خلافت کے لیے نامزد نہیں کیا۔ حضرت ابوبکر کو عمر کی صفات (اہلیت) کا علم تھا تو آپ نے عمر کو خلافت کے لیے نامزد کر دیا اور اس معاملے میں خاموشی اختیار نہیں کی۔ اس کے بعد عمر آئے تو انھوں نے تیسرا طریقہ اختیار کیا۔ انھوں نے اپنے آخر وقت میں چھ آدمیوں کی ایک کمیٹی بنادی اور اس سے کہا کہ تم لوگ میرے بعد کسی کو خلیفہ بنا کر اس کے نام کا اعلان کر دینا۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان امور میں کوئی ایک ہی مقرر اور متعین طریقہ نہیں ہے۔ اصل چیز مصلحت اسلام ہے، نہ کہ کوئی متعین ڈھانچہ۔ لوگ اقتدار چھن جانے کے بعد متواضع (modest) بن جاتے ہیں۔ حالاں کہ متواضع

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page