Urdu book · اوراقِ حکمت

13 دسمبر 1985

Urdu book, p. 223

By Maulana Wahiduddin Khan

وہ ہے، جو اقتدار کی کری پر ہو، پھر بھی متواضع بنا رہے۔ اخلاق وہ ہے جو اقتدار پانے کے بعد ظاہر ہو، نہ کہ اقتدار چھننے کے بعد۔ رڈیار کپلنگ (Rudyard J. Kipling) مشہور انگریزی شاعر اور ناول نگار ہے۔ وہ 1865 میں پیدا ہوا، اور 1936 میں اس کی وفات ہوئی۔ کپلنگ ان لوگوں میں تھا جو جدید مغربی تہذیب کو تاریخ کی آخری ارتقائی تہذیب سمجھتے تھے۔ کپلنگ کے نزدیک یورپ اور امریکا کے ترقی یافتہ سفید فام لوگوں کی ذمہ داری تھی کہ وہ بقیہ دنیا کو تہذیب کی یہ نعمت پہنچائیں۔ نو آبادیاتی نظام اس کے نزدیک اسی کوشش کی ایک صورت تھی۔ اس کی ایک مشہور نظم ہے، جس میں اس نے اپنے اس نظریے کو سفید انسان کا بوجھ (White Man's Burden) سے تعبیر کیا تھا: Take up the White Man's burden Send forth the best ye breed Go bind your sons to exile To serve your captives' need جب بھی کوئی قوم ترقی کے درجہ پر پہنچتی ہے تو وہ دوسری اقوام پر غلبہ حاصل کرنے کے لیے اسی قسم کے نظریات وضع کرتی ہے۔ میرے نزدیک مسلمانوں میں اسلامی خلافت کا تصور بھی اسی قسم کے ذہن کی پیداوار ہے۔ یہ نظریہ کہ "انسان دنیا میں خدا کا خلیفہ ہے" قرآن وسنت میں کہیں مذکور نہیں، اور نہ صحابہ کے زمانے میں اس نظریے کا ثبوت ملتا ہے۔ یہ نظریہ دراصل عباسی دور میں پیدا ہوا، اور اس کا تصور یہ تھا کہ ساری دنیا میں اپنا غلبہ قائم کرنے کے لیے فکری جواز فراہم کیا جائے۔ میرے نزدیک مسلمان خدا کے خلیفہ نہیں، بلکہ وہ خدا کے پیغام بر ہیں۔ انھیں اس تعلیم کو تمام انسانوں تک اس کی قابل فہم زبان (understandable language)

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page