اوراقِ حکمت
Urdu book, p. 229
By Maulana Wahiduddin Khan
اگر ڈسٹن فرم کو معلوم ہوتا ہے کہ ”پانچ ہزار ڈالر“ کی قربانی اس کو ایک ایسے کاروباری ادارے میں 25 فی صد کے بقدر حصہ دار بنا دے گی، جس کی آمدنی آدھی صدی کے بعد چودہ کروڑ ڈالر سالانہ ہو جائے گی تو یقیناً وہ اجرت مانگنے کے بجائے مذکورہ پیش کش کو بخوشی قبول کر لیتا۔ مگر انسان مستقبل کو نہیں جانتا، اس لیے وہ اتنے دور اندیشی کے فیصلے بھی نہیں کر سکتا۔ 28 دسمبر 1985 ہر لفظ کا ایک ابتدائی مفہوم ہوتا ہے۔ مگر استعمال سے اس میں وسعت یا فرق پیدا ہوتا رہتا ہے۔ یہ ہر زمانہ میں ہوتا ہے۔ مثلاً عربی کا ایک لفظ فتح ہے۔ یہ لفظ جب اشیاء کے لیے بولا جائے تو اس کے معنی سادہ طور پر صرف کھلنے کے ہوں گے۔ مثلاً فتح الباب (دروازہ کھولا)۔ مگر جب یہ لفظ حیوانات کے لیے بولا جائے تو معنی میں فرق پیدا ہو جائے گا۔ اب اس کے معنی صرف کھلنے کے نہ ہوں گے بلکہ کھل کر اچانک نکل پڑنے کے ہوں گے۔ مثلاً ٹڈیوں کا دل کسی گوشہ سے نکل پڑے تو کہیں گے: فُتِحَتِ الْجَرَادُ۔ الفاظ میں استعمال کے اعتبار سے جو وسعت پیدا ہوئی ہے، اس کو جو لوگ نہ جانیں، وہ کسی عبارت کو سمجھنے میں عجیب عجیب غلطیاں کر سکتے ہیں۔ 30 دسمبر 1985 مسلمانوں کا ایک پندرہ روزہ اخبار نکلتا ہے۔ اس کے صفحہ اول پر یہ فقرہ لکھا ہوا ہوتا ہے: مسلک اکابر کا ترجمان یہ عین وہی چیز ہے جس کو قرآن میں کہا گیا ہے: اِتَّخَذُوا أَحْبَارَهُمْ وَرُهْبَانَهُمْ أَرْبَابًا مِّن دُونِ اللَّهِ (9:31)۔ یعنی، انھوں نے اللہ کے سوا اپنے علماء اور مشائخ کو رب بنا ڈالا۔ کوئی شخص ایسا اخبار نہیں نکالتا جس کے اوپر یہ لکھا ہوا ہو کہ ”مسلک صحابہ کا ترجمان“۔ حتیٰ کہ یہ جملہ اگر کسی سے کہا جائے تو اس کو وہ اجنبی معلوم ہوگا۔ البتہ وہ اس قسم کے الفاظ بولنے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader