پیش لفظ
Urdu book, p. 35
By Maulana Wahiduddin Khan
مطلق قانون قابل دریافت نہیں ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ قابل مظہرہ نہیں: Absolute judgments about law are not discoverable, that is to say, not demonstrable. یہ نظریہ قانون کانت کے فلسفہ سے نکلا ہے۔ کانت نے دکھایا ہے کہ ہم صرف جان سکتے ہیں کہ "کیا ہے"، ہم "کیا ہونا چاہیے" کو دریافت نہیں کر سکتے۔ چنانچہ گسٹاو ریڈ برش کا کہنا ہے کہ مطلوبہ قانون بذریعہ اعتراف(confession) اختیار کیا جا سکتا ہے، نہ اس لیے کہ وہ علمی طور پر معلوم (scientifically known) ہے ۔ موجودہ زمانہ میں قانون، زبردست کوشش کے باوجود قانون کے معیار(legal norms) کی تلاش میں ناکام ہو چکا ہے۔ 25 فروری 1985 بزرگوں کی بزرگی ثابت کرنے کے لیے کس طرح جھوٹے قصے گھڑے جاتے ہیں، اس کی ایک دلچسپ مثال ذیل کا قصہ ہے: مولانا قاسم نانوتوی کے بارے میں یہ قصہ مشہور ہے کہ مولانا نانوتوی دارالعلوم دیوبند میں استاد تھے۔ دارالعلوم کی طرف سے ان کو دس روپیہ ماہوار تنخواہ ملتی تھی۔ نواب صدیق حسن خاں (بھو پال) نے ان کو لکھا کہ آپ دیو بند سے بھو پال آ جائیں۔ یہاں آپ کو 300 روپے ماہوار پیش کیے جائیں گے۔ مولانا نانوتوی نے ان کو جواب میں لکھا: "میں یہاں مدرسہ میں دس روپے ماہوار تنخواہ پاتا ہوں۔ 5 روپے میں بچوں کا خرچ چل جاتا ہے، اور بقیہ پانچ روپیہ کا مصرف ہر ماہ تلاش کرنا پڑتا ہے۔ اگر میں بھو پال آ جاؤں تو مجھ کو ہر ماہ 295 روپے کا مصرف تلاش کرنا ہوگا۔ اور یہ زحمت اٹھانا میرے لیے مشکل ہے۔" اس سلسلے میں مولانا محمد عبد الحق (انچارج دفتر دارالعلوم دیوبند) کا ایک مضمون الجمعیۃ 4

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader