پیش لفظ
Urdu book, p. 36
By Maulana Wahiduddin Khan
جنوری 1975 میں چھپا ہے۔ انھوں نے اس قصہ کو سراسر بے بنیاد بتایا ہے۔ انھوں نے لکھا ہے کہ مولانا قاسم نانوتوی نے اپنی ساری عمر کبھی دارالعلوم دیوبند سے کوئی تنخواہ ہی نہیں لی (ملاحظہ ہو، سوانح قاسمی جلد اول، صفحہ 536)۔ جب مولانا نانوتوی دارالعلوم دیوبند سے سرے سے کچھ تنخواہ ہی نہیں لیتے تھے تو ان کے بارے میں مذکورہ قصہ کیسے صحیح ہو سکتا ہے۔ 26 فروری 1985 نظام شمسی (solar system) وہ ہے، جس کے درمیان میں ایک روشن ستارہ (سورج) ہو، اور اس روشن ستارے کے گرد غیر روشن سیارے مخصوص مدار میں گھوم رہے ہوں۔ اب تک کی تحقیق کے مطابق، معلوم نظام شمسی ابھی تک صرف ایک ہے، جس میں ہماری زمین واقع ہے۔ تاہم علمائے فلکیات کا قیاس ہے کہ اس قسم کے مزید ایک ملین نظام شمسی کائنات میں ہو سکتے ہیں۔ کہکشاں (galaxy) اس مجموعہ کو کہتے ہیں جس میں روشن ستارے ایک خاص نظام کے اندر گردش کر رہے ہیں۔ ہماری قریبی کہکشاں، جس کا نام ملکی وے (Milky Way) ہے، اور جو رات کے وقت لمبی سفید دھاری کی شکل میں دکھائی دیتی ہے، اس کے اندر تقریباً ایک کھرب ستارے ہیں، اور ہمارا نظام شمسی اسی میں واقع ہے۔ سورج ہماری کہکشاں کی پلیٹ پر اپنے تمام سیاروں کو لیے ہوئے 175 میل فی سیکنڈ کی رفتار سے گردش کر رہا ہے۔ یہ کہکشاں اتنی وسیع ہے کہ سورج 220 کلومیٹر فی سیکنڈ کے رفتار سے ایک چکر 24 کرور سال میں پورا کرتا ہے۔ یعنی، سورج کے اس تیز رفتار سفر کے باوجود کہکشاں کے مرکز کے گرد ایک چکر کو پورا کرنے میں ہمارے نظام شمسی کو 24 کرور سال لگ جاتے ہیں۔ اس قسم کی ایک بلین سے زیادہ کہکشائیں وسیع کائنات میں پائی جاتی ہیں،

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader