پیش لفظ
Urdu book, p. 37
By Maulana Wahiduddin Khan
اور ہر کہکشاں کے اندر کئی بلین انتہائی بڑے بڑے ستارے موجود ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق ہماری کہکشاں ملکی وے میں 200 سے 400 ارب ستارے ہیں۔ کہکشاں کے اندر ستارے انتہائی بعید فاصلوں پر واقع ہیں۔ ہمارے سورج سے قریب ترین ستارے کی روشنی، جو ایک لاکھ چھیاسی ہزار میل فی سیکنڈ کی رفتار سے سفر کر رہی ہو، زمین تک اس کو پہنچنے میں 4 سال سے بھی زیادہ وقت لگ جاتا ہے۔ اجرام سماوی کے اتنے بڑے نظام کو کیا چیز تھامے ہوئے ہے، فلکیات دانوں کے نزدیک وہ اجرام سماوی کی باہمی کشش ہے۔ کیسی عجیب بات ہے کہ ”اجرام سماوی کی باہمی کشش“ کے لفظ کی معنویت آدمی سمجھ لیتا ہے۔ مگر ”خدا“ کے لفظ کی معنویت اس کی سمجھ میں نہیں آتی۔ 27 فروری 1985ء مسلمان ساری دنیا میں وَضُرِبَتْ عَلَيْهِمُ الذِّلَّةُ وَالْمَسْكَنَةُ (2:61) کا مصداق ہو رہے ہیں۔ یعنی اور ڈال دی گئی ان پر ذلت اور محتاجی۔ کوئی کوشش اور کوئی تدبیر ان کو اس حالت سے نکالنے میں کامیاب نہیں ہو رہی ہے۔ شاید یہ امت اس سنت الہی کی زد میں آگئی ہے، جس میں اس سے پہلے یہود آئے تھے ۔ یہود اس لیے مغضوب ہوئے کہ کتاب الہی کے حامل ہونے کے باوجود، انھوں نے حق کی گواہی نہیں دی۔ انھوں نے اس کا کتمان کیا۔ مسلمانوں کا حال بھی اب یہی ہو رہا ہے۔ ان کو خدا کی آخری وحی دی گئی تھی، اور حکم ہوا تھا کہ جس طرح رسول نے اس امانت کو تمھارے پاس پہنچایا ہے، اسی طرح تم قیامت تک اس کو تمام قوموں تک پہنچاتے رہو مگر امت نے صدیوں سے اپنی اس ذمہ داری کو چھوڑ رکھا ہے۔ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کی ذلت اور مسکنت کا سبب یہی ہے۔ ان کو ذلت اور مسکنت سے نکالنے کی واحد تدبیر یہ ہے کہ ان کو دوبارہ داعی گروہ کی حیثیت سے اٹھایا جائے، اور حق کا پیغام تمام بندگان خدا تک ان کی اپنی قابل فہم زبان میں پہنچایا جائے۔ یہی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader