Urdu book · اوراقِ حکمت

پیش لفظ

Urdu book, p. 38

By Maulana Wahiduddin Khan

واحد عمل ہے، جو مسلمانوں کو دوبارہ نصرتِ الہی کا مستحق بنا سکتا ہے، اور ان کو دنیا اور آخرت میں سرفراز کر سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے فضلِ خاص سے آج ہمارے لیے ایسے حالات پیدا کر دیے ہیں کہ پچھلے تمام زمانوں سے زیادہ مؤثر شکل میں اس مہم کو انجام دیا جا سکتا ہے۔ ایک طرف پٹرول ڈلر کے خزائن نے مسلمانوں کو اس پوزیشن میں کر دیا ہے کہ وہ اس کام کو اعلیٰ ترین سطح پر کرنے کی بڑی سے بڑی قیمت دے سکیں۔ دوسری طرف جدید در یافتوں نے حیرت انگیز طور پر اسلام کے ان تمام معتقدات کے لیے خالص سائنسی دلائل فراہم کر دیے ہیں، جن پر پچھلے زمانوں میں صرف قیاسی بحثیں کی جاسکتی تھیں۔ اگر ان دونوں امکانات کو دعوتِ حق کی مہم میں استعمال کیا جائے، تو اظہار دین اور اعلائے کلمۃ اللہ کے خواب کو عالمی سطح پر ممکن بنایا جا سکتا ہے۔ 28 فروری 1985 میں نے ایک خانقاہ میں چند دن گزارے۔ یہاں میں نے دیکھا کہ لوگ زور و شور سے ذکر با جہر کر رہے ہیں۔ میں نے وہاں کے ایک عالم دین سے کہا یہ ذکر با جہر جس کی گونج ہر خانقاہ میں سنائی دیتی ہے، اس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ قرآن کے نص صریح کے خلاف ہے۔ کیوں کہ قرآن میں آیا ہے: وَاذْكُرْ رَبَّكَ فِي نَفْسِكَ تَضَرُّعًا وَخِيفَةً وَدُونَ الْجَهْرِ مِنَ الْقَوْلِ (7:205)۔ یعنی اور اپنے رب کو صبح و شام یاد کرو اپنے دل میں، عاجزی اور خوف کے ساتھ اور پست آواز سے۔ مزید یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام کے یہاں اس قسم کے ذکر کی کوئی مثال نہیں ملتی۔ اس زمانے میں مطلق اس کا رواج نہیں تھا کہ لوگ بیٹھ کر بلند آواز سے کچھ مخصوص الفاظ کی تکرار کر رہے ہوں۔ انھوں نے جواب دیا۔ اصل یہ ہے کہ رسول اللہ کی روحانیت اتنی بڑھی ہوئی تھی کہ جو آپ کو دیکھتا تھا وہ ایمان کا اعلیٰ مقام حاصل کر لیتا تھا۔ مگر بعد کے دور میں جب یہ چیز باقی نہ رہی تو

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page