Urdu book · اوراقِ حکمت

پیش لفظ

Urdu book, p. 39

By Maulana Wahiduddin Khan

بزرگوں نے ذکر باجہر کا طریقہ اختیار کیا۔ اس سے دل پر ضرب لگائی جاتی ہے اور دل کو پاک صاف کیا جاتا ہے۔ ’’بزرگوں‘‘ کی طرف سے اس قسم کا جواب دیا جانا اور مریدوں کا نہایت وفاداری کے ساتھ اس کو محفوظ کر لینا ظاہر کرتا ہے کہ مسلم قوم میں دینی فکر کی سطح آج کتنی پست ہو چکی ہے۔ ذکرِ عبادت کے طریقوں میں سے ایک طریقہ ہے۔ عبادت کے لیے یہ امر مسلم ہے کہ یہ اجتہاد کے دائرے سے باہر کی چیز ہے۔ یعنی اس کا تعین صرف خدا کر سکتا ہے۔ انسان اس کی صورت متعین نہیں کر سکتا۔ اب مذکورہ بالا سوال پر غور کیجیے تو منطقی طور پر یہ جواب جہاں پہنچاتا ہے وہ یہ کہ ’’ہم پیغمبر نہیں بن سکتے تھے، اس لیے ہم نے خدا کی نشست پر قبضہ کر لیا ہے۔‘‘ 1 مارچ 1985 حضرت مسیح علیہ السلام بلاشبہ خدا کے پیغمبر تھے مگر آپ کا تذکرہ عیسائیوں کی مقدس کتاب کے باہر کہیں موجود نہیں۔ اس بنا پر بہت سے اہل علم حضرات مسیح کو غیر تاریخی شخصیت قرار دیتے ہیں۔ کسی شخص کے تاریخی شخص ہونے کا ایک معیار یہ ہے کہ اس کا ذکر معاصر تاریخ (contemporary history) میں موجود ہو۔ چنانچہ عیسائی علما نے بے شمار کوشش کی کہ وہ حضرت مسیح کی معاصر تاریخ میں آپ کا تذکرہ حاصل کر سکیں مگر اس میں انھیں کامیابی نہیں ہوئی۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ حضرت مسیح کے بارے میں غیر مذہبی ریکارڈ (secular records) نہیں ملتا۔ پیغمبر عیسیٰ کے زمانے کی غیر مسیحی تحریروں میں براہ راست ان کا کوئی ذکر نہیں۔ تاہم بے پناہ تلاش کے بعد موجودہ زمانے میں بعض بالواسطہ حوالے معلوم کیے گئے ہیں۔ مثلاً بعد کے کچھ یہودی ربی کی تحریروں میں اس قسم کے جملے دریافت کیے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page