Urdu book · اوراقِ حکمت

پیش لفظ

Urdu book, p. 40

By Maulana Wahiduddin Khan

گئے ہیں۔ فلسطین میں ایک جادوگر کا ظہور ہوا تھا تاہم یہ تحریر بھی پہلی صدی عیسوی کی ہے یعنی حضرت مسیح کے اس دنیا سے چلے جانے کے بعد کی۔ حمید بن عبدالرحمن کہتے ہیں کہ میں یزید کی ولی عہدی کے وقت حضرت بشیر کے پاس گیا، جو صحابہ میں سے تھے۔ میں نے ان سے یزید کے بارے میں اظہارِ خیال کے لیے کہا۔ انھوں نے کہا: يَقُولُونَ: إِنَّمَا يَزِيدُ لَيْسَ بِخَيْرٍ لِأُمَّةِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَنَا أَقُولُ ذَلِكَ، وَلَكِنْ لَأَنْ يَجْمَعَ اللَّهُ أُمَّةَ مُحَمَّدٍ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ تَفْتَرِقَ ( تاریخ الاسلام للذہبی، جلد 4، صفحہ 87)۔ یعنی لوگ کہتے ہیں کہ یزید امت محمد کے بہتر لوگوں میں سے نہیں ہے، اور میں بھی یہی کہتا ہوں۔ لیکن امت محمدی کا اتفاق سے رہنا، مجھے افتراق کی بنسبت زیادہ پسند ہے۔ جس وقت امیر معاویہ نے اپنے بیٹے یزید کو ولی عہد بنایا اس وقت ہزاروں کی تعداد میں صحابہ کرام زندہ موجود تھے۔ مثلاً حسین بن علی، عبداللہ بن عباس، عبداللہ بن عمر، عبداللہ بن زبیر، اور عبدالرحمن بن ابی بکر اور دوسرے بہت سے جلیل القدر افرادِ ملت کے اندر موجود تھے۔ ایسی حالت میں یزید کو خلیفہ بنانا سخت قابل اعتراض ہو سکتا تھا۔ مگر تمام صحابہ نے اس پر سکوت اختیار کیا۔ حضرت حسین کے سوا کسی نے بھی یزید کے خلاف کوئی مہم نہیں چلائی۔ اصحابِ رسول کی یہ خاموشی یقینی طور پر بزدلی کی بنا پر نہ تھی، بلکہ اسلامی حکمت کی بنا پر تھی۔ 4 مارچ 1985 حضرت عمر فاروق نے فرمایا: تَفَقَّهُوا قَبْلَ أَنْ تُسَوَّدُوا ( صحیح البخاری، جلد 1، صفحہ 25)۔ یعنی سردار بننے سے پہلے فقہ حاصل کرو۔ حضرت عمر کے اس قول سے موجودہ زمانہ کے بہت سے لوگ اُس فن کی اہمیت پر استدلال کرتے ہیں، جس کو فقہ کہا جاتا ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page