Urdu book · اوراقِ حکمت

14 مارچ 1985

Urdu book, p. 50

By Maulana Wahiduddin Khan

چپ رہو، لات اور عزیٰ کو اس طرح برامت کہو۔ اس سے ڈرو کہ تم کو برص ہو جائے، تم کو جذام ہو جائے، تم کو جنون ہو جائے ۔ ضمام نے کہا خدا کی قسم یہ لات اور عزیٰ نہ ہمارا کچھ بگاڑ سکتے ہیں، اور نہ ہم کو کوئی فائدہ پہنچا سکتے (سیرت ابن ہشام، جلد 2، صفحہ 574)۔ لات اور عزیٰ بظاہر پتھر کے بت تھے۔ پھر قوم کے لوگوں نے ایسی بات کیوں کہی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ پتھر کے مجسے حقیقۃً ان کے قدیم بزرگوں کے مجسے تھے۔ ان پتھروں کے ذریعہ وہ اپنے بزرگوں کو پوج رہے تھے۔ حضرت ضمام سے جو کچھ انھوں نے کہا وہ بدلے ہوئے الفاظ میں یہ تھا: ’’ہمارے بزرگوں کو برامت کہو، ورنہ تم پر آفت آجائے گی‘‘۔ یہی قوموں کی خاص گمراہی ہے۔ وہ پہلے بھی تھی، اور آج بھی پوری طرح باقی ہے۔ قوموں کا یقین جب خدا سے ہٹتا ہے، تو وہ اکابر اور بزرگوں پر آ کر رک جاتا ہے۔ لوگ اپنے اکابر سے وہ عقیدت وابستہ کر لیتے ہیں، جو عقیدت صرف ایک خدا سے ہونی چاہیے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر دور میں لوگ سب سے زیادہ جس چیز سے برہم ہوتے ہیں، وہ یہ ہے کہ ان کے بزرگوں اور اکابر پر تنقید کی جائے۔ 16 مارچ 1985 اسلام پر روایتی عقیدہ کافی نہیں۔ اسلامی تعلیمات کو جب آپ روایتی الفاظ میں بیان کرتے ہیں، تو وہ صرف روایتی عقیدہ کے طور پر ذہن میں داخل ہوتا ہے۔ اس کے برعکس، جب اس کو وقت کی زبان میں بیان کیا جائے تو وہ سننے والے کی نفسیات کا جزء بن جاتا ہے۔ ایک ناقابل فہم منتر آپ کسی کو یاد کرا سکتے ہیں، مگر ایسا منتر آدمی کی نفسیات میں شامل نہیں ہوگا۔ وہ بس او پر اور پر رہے گا، اور کوئی عقیدہ جب تک نفسیات میں شامل نہ ہو، وہ آدمی کے اندرون کو نہیں جگاتا، وہ اس کی قوت محرکہ نہیں بنتی۔ اسلامی تعلیمات کو وقت کے اسلوب میں بیان کرنے کی چند مثالیں یہ ہیں۔ مثلاً سورہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page