14 مارچ 1985
Urdu book, p. 61
By Maulana Wahiduddin Khan
شانِ نزول کی روایتوں کا مطلب صرف یہ ہے کہ مکہ یا مدینہ کے سماج میں ایک واقعہ گزرا۔ اس سے زندگی کے ایک معاملے کے بارے میں سننے اور جاننے کی فضا پیدا ہوئی۔ اس وقت اللہ نے اس واقعہ کا حوالہ دیتے ہوئے قرآن میں اپنا حکم نازل فرمایا۔ یہ حکم ایک اعتبار سے مخصوص واقعہ کے بارے میں شریعت الہیٰ کا اظہار تھا اور دوسرے اعتبار سے وہ ایک اصولی ہدایت تھی جو قیامت تک تمام انسانوں کے لیے رہنما بنے۔ 28 مارچ 1985ء مسلمان واحد قوم ہیں جنھوں نے بحیثیتِ قوم آج کی دنیا میں سب سے بڑی اقتصادی قربانی دی ہے۔ یہ ایک معلوم حقیقت ہے کہ مسلمان آج اقتصادیات میں سب سے پیچھے ہیں۔ جب کہ یورپ کی نشاۃ ثانیہ سے پہلے وہ ساری دنیا میں اقتصادی اعتبار سے سب سے آگے تھے۔ اس کی وجہ ان کی بے خبری نہیں، جیسا کہ عام طور پر سمجھا جاتا ہے، بلکہ بربنائے عقیدہ ان کی قربانی ہے۔ مسلمان آخر چاند سے تو نہیں آئے، وہ بھی انھیں قوموں سے نکل کر اسلام میں داخل ہوئے ہیں، پھر کیا وجہ ہے کہ دوسری قومیں جس جدید اقتصادی تبدیلی کو سمجھ کر اس پر چل پڑیں، مسلمان اس پر نہیں چلے۔ اس کی وجہ سود ہے۔ جدید اقتصادیات تمام کی تمام سود پر مبنی ہیں۔ مسلمان سود کی حرمت کی وجہ سے اس سے الگ رہے۔ اور اس کے نتیجے میں اقتصادی اعتبار سے وہ ساری قوموں میں سب سے پیچھے ہو گئے۔ سودی اقتصادیات نے آج ساری دنیا کو تباہ کر رکھا ہے۔ مسلمانوں کے لیے بہترین موقع تھا کہ وہ دنیا کے سامنے غیر سودی نظام کی تبلیغ کرتے۔ اگر وہ صحیح معنوں میں ایسا کرتے تو وہ جدید دنیا کے امام بن سکتے تھے۔ مگر عجیب بات ہے کہ اس معاملے کا نقصان تو ان کے حصے میں آیا، مگر اس کا فائدہ ان کے حصے میں نہ آسکا۔ موجودہ زمانہ کی دو بنیادی خرابیاں ہیں جنھوں نے ساری انسانیت کو تباہ کر رکھا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader