Urdu book · اوراقِ حکمت

اوراقِ حکمت

Urdu book, p. 62

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک سودی معاشیات، دوسرے آزادانہ جنسی اختلاط۔ ان دونوں چیزوں کے بارے میں دوسرے مذاہب کے پاس واضح اصول نہیں۔ تحریف (distortion) نے ان کی تعلیمات میں صحیح اور غلط کی آمیزش کر رکھی ہے۔ آج صرف اسلام ہی ایک ایسا مذہب ہے، جس میں ان امور کے بارے میں واضح احکام موجود ہیں۔ ان کو لے کر دنیا کے سامنے کھڑا ہونے کے لیے دعوتی ذہن اور علم درکار ہے، اور یہی دونوں چیزیں ہیں جو مسلمانوں کے پاس موجود نہیں۔ 29 مارچ 1985ء عرب امارات کے ایک سفر میں میری ملاقات استاذ احمد العبادی (شارجہ) سے ہوئی۔ یہ 21 رجب 1404ھ کا واقعہ ہے۔ انھوں نے بتایا کہ فرانس کے ایک اسپتال کے ڈائرکٹر نے اعلان شائع کیا کہ اس کو طبی تحقیق کے سلسلہ میں کچھ ڈاکٹروں کی ضرورت ہے۔ جن لوگوں نے درخواستیں بھیجیں، ان میں ایک نوجوان عرب بھی تھا۔ یہ مسلمان تھا مگر اسلام سے اس کو زیادہ دلچسپی نہ تھی۔ انٹرویو کے دوران ڈائرکٹر نے پوچھا کہ تم مسلمان ہو، تمھاری رائے محمد کے بارے میں کیا ہے۔ نوجوان عرب نے جواب دیا: وہ قدیم عرب کے ایک بدو تھے، انھوں نے کچھ بدوؤں کو بے وقوف بنا کر اپنے گرد جمع کر لیا۔ نوجوان کا یہ جواب سن کر مذکورہ فرانسیسی ڈائرکٹر اس کو ایک مخصوص کمرے میں لے گیا۔ وہاں ایک بورڈ پر یہ حدیث لکھی ہوئی تھی : عَنْ مِقْدَامِ بْنِ مَعْدِي كَرِبَ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : مَا مَلَا آدَمِيٌّ وِعَاءً شَرًّا مِنْ بَطْنٍ. بِحَسْبِ ابْنِ آدَمَ أُكُلَاتٌ يُقِمْنَ صُلْبَهُ، فَإِنْ كَانَ لَا مَحَالَةَ فَثُلُثٌ لِطَعَامِهِ وَثُلُثٌ لِشَرَابِهِ وَثُلُثٌ لِنَفْسِهِ (سنن الترمذی، حدیث نمبر 2380، سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر 3349، مسند احمد، حدیث نمبر (17186)۔ یعنی مقدام بن معدی کرب سے روایت ہے،

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page