اوراقِ حکمت
Urdu book, p. 63
By Maulana Wahiduddin Khan
انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سنا، آپ کہتے ہیں کہ کسی انسان نے پیٹ سے زیادہ نقصان پہنچانے والا کوئی برتن نہیں بھرا، انسان کے لیے اتنے لقمے کافی ہیں کہ وہ اپنی پیٹھ کو سیدھا کر سکے ، اگر اور ضرورت ہے، تو ایک تہائی اس کے کھانے کے لیے ہو، اور ایک تہائی اس کے پانی کے لیے ہو، اور ایک تہائی اس کی سانس کے لیے۔ فرانسیسی ڈائرکٹر نے مذکورہ عرب نوجوان کو یہ حدیث دکھائی، اور کہا کہ میں نے اس حدیث رسول سے دس سے زیادہ طبی اصول اخذ کیے ہیں، اور میری ریسرچ ابھی جاری ہے۔ لہذا جاہل اور گنوارتم ہو، نہ کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم۔ اور پھر اس طالب علم کو اپنے ادارہ میں لینے سے انکار کر دیا۔ 30 مارچ 1985 قرآن میں سورہ الذاریات کی ایک آیت یہ ہے : وَالسَّمَاءَ بَنَيْنَاهَا بِأَيْدٍ وَإِنَّا لَمُوسِعُونَ (51:47)۔ اس آیت کا لفظی ترجمہ یہ ہے: اور ہم نے آسمان کو بنایا ہاتھ سے اور ہم یقیناً پھیلانے والے ہیں۔ قدیم مترجمین کی سمجھ میں پھیلانے والے کی معنویت نہ آسکی، اس لیے انھوں نے لَمُوسِعُونَ کا ترجمہ حسب ذیل الفاظ میں کیا ہے: وہر آئینہ ما توانائیم۔ اور ہم کو سب مقدور ہے۔ اور ہم وسیع القدرت ہیں۔ اور بڑی ہی وسعت رکھنے والے ہیں۔ اور ہم اس کی قدرت رکھتے ہیں۔ وغیرہ۔ خالص لفظی اعتبار سے یہ ترجمہ صحیح نہیں ہے۔ کیوں کہ لفظی ترجمہ یہ ہے : ” ہم کشادہ کرنے والے ہیں “ یا ” ہم پھیلانے والے ہیں۔“

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader