اوراقِ حکمت
Urdu book, p. 64
By Maulana Wahiduddin Khan
ترجمہ کے اس فرق کی وجہ یہ ہے کہ قدیم زمانے میں لوگوں کو یہ معلوم نہ تھا کہ کائنات ایک پھیلتی ہوئی کائنات (expanding universe) ہے۔ انسانی علم کی محدودیت اس کو نہ پاسکی۔ مگر قرآن کے مصنف کو یہ حقیقت اس وقت بھی معلوم تھی کہ جب کہ ساری دنیا میں کوئی ایک شخص بھی اس کو نہیں جانتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اس نے اس حقیقت کی رعایت کرتے ہوئے موسعون (ہم پھیلانے والے ہیں) کے لفظ کا انتخاب فرمایا۔ قرآن میں اس طرح کے کثیر شواہد ہیں جو یہ ثابت کرتے ہیں کہ قرآن عالم الغیب کا کلام ہے، محدود ذہن رکھنے والا انسان ایسا کلام پیش کرنے پر قادر نہیں ہوسکتا۔ 1 اپریل 1985 سورۃ الذاریات کی آیت 47 کے سلسلے میں میں نے قرآن کے بہت سے تراجم کو دیکھا۔ اکثر لوگوں نے وہی ترجمہ کیا ہے، جو میں اس سے پہلے نقل کر چکا ہوں۔ میرے علم کے مطابق، اس میں صرف کچھ مترجمین کا استثنا ہے۔ شاہ رفیع الدین صاحب (1750-1818) کے متعلق معلوم ہے کہ وہ خالص لفظی ترجمہ کرتے ہیں۔ حتیٰ کہ وہ اس کا بھی لحاظ نہیں کرتے کہ ان کے الفاظ پڑھنے والا سمجھ سکے گا یا نہیں۔ ان کے لفظی ترجمہ پر کچھ لوگ ہنستے ہیں، مگر حقیقت ہے کہ اس لفظی ترجمہ کی وجہ سے اکثر وہ ایسی غلطی سے بچ جاتے ہیں، جو دوسرے مترجمین سے ہوئیں۔ شاہ رفیع الدین صاحب نے مذکورہ آیت کا جو ترجمہ کیا ہے وہ ان کے الفاظ میں یہ ہے: "اور آسمان کو بنایا ہم نے اس کو ساتھ قوت کے اور تحقیق ہم البتہ کشادہ کرنے والے ہیں" (مطبوعہ: مجمع البحوث العلمیہ الاسلامیہ، نئی دہلی، صفحات 24-623) یہ چھوٹی سی مثال ایک بہت بڑی حقیقت کو بتاتی ہے۔ یہ حقیقت کہ خدا کے کلام کی اطاعت خالص تقلیدی انداز سے ہونی چاہیے۔ خدا کے کلام سے اگر ایک حکم واضح طور پر نکل

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader