اوراقِ حکمت
Urdu book, p. 65
By Maulana Wahiduddin Khan
رہا ہو تو ہم کو چاہیے کہ ہم بالکل مقلدانہ انداز میں اس پر چل پڑیں۔ عین ممکن ہے کہ مستقبل یہ بتائے کہ خدا کے اس حکم میں بہت بڑا خیر تھا جو بظاہر ہماری عقل میں نہیں آتا تھا۔ شاہ رفیع الدین صاحب نے یقیناً یہ ترجمہ جدید فلکیاتی فہم کے ساتھ نہیں کیا کیوں کہ توسیع کائنات کا نظریہ (expanding universe theory) ان کے زمانے میں دریافت ہی نہ ہوا تھا۔ یقینی طور پر انھوں نے یہ ترجمہ خالص تقلیدی ذہن کے تحت کیا، مگر ان کی تقلیدِ عظیم الشان اجتہاد بن گئی۔ جو چیز ماضی میں بظاہر ناقابل فہم تھی، جب مستقبل کے پردے ہٹے تو معلوم ہوا کہ وہ سب سے زیادہ قابل فہم بات ہے۔ آج جدید معلومات سامنے آنے کے بعد شاہ رفیع الدین صاحب ہی کا ترجمہ صحیح نظر آتا ہے جب کہ قدیم زمانے میں وہ غیر صحیح دکھائی دیتا تھا۔ 2 اپریل 1985 پاکستان کے سفر میں میری ملاقات ایک صاحب سے ہوئی۔ یہ ایک مشہور شخصیت ہیں، اور پاکستان میں "غلبۂ اسلام" کی تحریک چلا رہے ہیں۔ میں نے ان سے پوچھا کہ پاکستان میں غیر مسلم (ہندو اور عیسائی) قابل لحاظ تعداد میں موجود ہیں۔ کیا ان کے درمیان کوئی تبلیغِ اسلام کی تحریک چل رہی ہے۔ میرا یہ سوال سن کر وہ مسکرائے اور پھر کہا: یہاں غیر مسلموں کی فکر کون کرتا ہے۔ مجھے ان کے اس جواب سے بہت دھکا لگا۔ میرے لیے یہ تجربہ بڑا اندوہ ناک تھا کہ جو لوگ غلبۂ اسلام کی باتیں کرتے ہیں، ان کو صرف اسلام کے سیاسی غلبہ سے دلچسپی ہے۔ خدا کے بندوں کو جہنم کی آگ سے بچانے کی انھیں کوئی فکر نہیں۔ میرا قطعی یقین ہے کہ غلبۂ اسلام کی بات کو اگر دعوتِ اسلام سے الگ کر دیا جائے تو وہ صرف ایک قومی نعرہ بن جاتا ہے۔ دعوتِ اسلام سے الگ کرنے کے بعد غلبۂ اسلام کے نعرے کی کوئی حقیقت نہیں۔ اس قسم کی تحریک عین وہی ہے، جو یہودیوں کے اندر چل رہی ہے۔ یہودیوں کی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader