Urdu book · اوراقِ حکمت

اوراقِ حکمت

Urdu book, p. 66

By Maulana Wahiduddin Khan

تحریک صیہونیت (Zionism) گویا حضرت موسیٰ کے دین سے ہدایت کو الگ کر کے صرف سیاست کو لے لینا ہے۔ اسی طرح مسلمانوں میں جو لوگ حقیقی معنوں میں دعوتی جذبہ نہیں رکھتے ، البتہ غلبہ اسلام کے موضوع پر پر جوش تقریریں کرتے ہیں ، وہ در حقیقت قومی دین پر ہیں، نہ کہ خدائی دین پر۔ انھوں نے دین کے دعوتی حصہ کو الگ کر کے اس کے سیاسی حصہ کو لے رکھا ہے ، اور یہ عین وہی چیز ہے جو یہودیوں کے یہاں پائی جاتی ہے ، فرق صرف یہ ہے کہ یہودی اپنی روایات میں بولتے ہیں، اور مسلمان اپنی روایات میں۔ جو مسلمان سیاسی طور پر غلبہ اسلام کے علم بردار ہیں ، وہ بظاہر دعوت کا لفظ بھی بولتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اسلامی تحریک کے تین مرحلے ہیں— دعوت ، ہجرت ، جہاد۔ مگر دعوت سے ان کی مراد اس دنیا کے اندر اپنے سیاسی اسلام کے لیے فضا تیار کرنا ہے ، نہ کہ اللہ کے بندوں کو اللہ کے منصوبہ تخلیق سے باخبر کرنا۔ 3 اپریل 1985 انسان اس طرح پیدا کیا گیا ہے کہ خالق کا تصور اس کی فطرت کے ساتھ پوری طرح وابستہ (interwoven) ہے۔ یہ وابستگی اتنی گہرائی کے ساتھ ہے کہ دونوں کو ایک دوسرے سے جدا نہیں کیا جا سکتا۔ پھر جب انسان مطالعہ کرتا ہے ، اور غور و فکر سے کام لیتا ہے تو خالق کے ساتھ اس کی فطرت کی یہ وابستگی اور بھی زیادہ گہری ہو جاتی ہے۔ اس وقت اگر کسی غیر خدا کو اس کے سامنے خدا کے روپ میں پیش کیا جائے تو وہ غیر خدا کو خدا ماننے سے انکار کر دے گا۔ 4 اپریل 1985 شریمیتی سچد را جوشی (پیدائش 1919) نے فورمن کرسچین کالج لاہور سے سیاسیات میں ایم اے کیا۔ وہ بچپن سے ملکی سیاست میں دلچسپی لیتی رہی ہیں۔ 1947 کے بعد فرقہ پرستی کے خلاف کام کرنے والوں میں ان کا نام بہت نمایاں ہے۔ ماہنامہ شبستان (جون 1972) کو

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page