اوراقِ حکمت
Urdu book, p. 67
By Maulana Wahiduddin Khan
انٹرویو دیتے ہوئے انھوں نے اپنا ایک واقعہ اس طرح بیان کیا: 1947 کے ہنگامہ میں ہم دہلی کے مسلم محلوں میں کام کر رہے تھے۔ دلی کانگریس پر ہمارا قبضہ تھا۔ گاندھی جی آئے انھوں نے ہم سے پوچھا، کتنے مسلمان مارے گئے ۔ ہم نے بتایا کہ دس ہزار سے زیادہ مارے گئے ہیں۔ وہ بہت برہم ہوئے اور کہا کہ تم نے بچانے کی کوشش کیوں نہیں کی۔ ہم نے کہا ہم تو برابر کوشش کر رہے ہیں، مگر حالات بہت زیادہ خراب ہیں۔ انھوں نے غصے میں پوچھا ان دس ہزار میں تمھارے کانگریس ورکر کتنے مارے گئے ۔ ہم نے جواب دیا، ایک بھی نہیں۔ اس پر وہ بولے: پھر میں کیسے مان لوں کہ تم نے بچانے کی کوشش کی ہوگی۔ سچد را جوشی کی رپورٹ کے بعد گاندھی جی کا ایک جواب یہ ہو سکتا تھا ” کوشش اپنا کام ہے، کامیابی خدا کے ہاتھ میں ہے۔ تم اپنی کوشش جاری رکھو“۔ مگر یہ جواب نہیں۔ جو لوگ اپنے ماتحتوں کو اس قسم کے جواب دیں وہ زندگی کی حقیقتوں سے بالکل ناواقف ہیں۔ 5 اپریل 1985 مجھے کبھی کبھی احساس ہوتا ہے کہ میں ایک پیدائشی سائنس داں (born scientist) ہوں، تکنیکل معنوں میں نہیں بلکہ مزاج کے معنوں میں۔ سائنٹسٹ خارجی حقیقت کا مطالعہ کرتا ہے، اور اس کو انتہائی درست زبان (precise language) میں بیان کرتا ہے۔ سائنس داں کی کامیابی یہ ہے کہ وہ خارجی حقیقت کو ویسا ہی بیان کر دے جیسا کہ وہ فی الواقع ہے۔ اس سے سائنس داں کے اندر حقیقت واقعہ سے مطابقت کا مزاج پیدا ہوتا ہے۔ سائنسی مزاج (scientific temper) دراصل حقیقت واقعہ سے مطابقت ہی کا دوسرا نام ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader