Urdu book · اوراقِ حکمت

اوراقِ حکمت

Urdu book, p. 68

By Maulana Wahiduddin Khan

حقیقتِ واقعہ سے مطابقت کا مزاج میرے اندر بچپن سے پایا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی میں کسی کی کوئی بات نقل کرتا ہوں تو آخری حد تک کوشش کرتا ہوں کہ وہی بات نقل کروں، جو کہنے والے نے کہی ہے۔ تا کہ اصل اور نقل میں یکسانیت باقی رہے۔ جب میں کسی کے فکر پر تنقید کرتا ہوں تو اس کو بار بار پڑھتا ہوں، تاکہ میری تنقید عین اسی بات پر ہو، جو پیش کرنے والے نے پیش کی ہے، نہ کہ کسی دوسری بات پر۔ اپنے اس مزاج کی وجہ سے اکثر میں یہ کرتا رہا ہوں کہ جب مجھے اسلام کے موضوع پر کوئی مقالہ یا کتاب لکھنا پڑا تو میں اس سے پہلے پورے قرآن کو ایک بار پڑھتا ہوں۔ قرآن کو بار بار پڑھنے کے باوجود ہر نئے موقع پر میں پھر سے اس کو ایک بار پڑھتا ہوں، تاکہ میری بات عین قرآن کے مطابق رہے، دونوں کے اندر نامطابقت پیدا نہ ہونے پائے۔ میرا یہ مزاج اتنا بڑھا ہوا ہے کہ وہ ہر معاملہ میں ظاہر ہوتا ہے۔ حتیٰ کہ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ایک معمولی خط کا جواب دیتے ہوئے میں اس خط کو کئی بار پڑھتا ہوں۔ مکتوب نگار کا منشا اچھی طرح سمجھنے سے پہلے میں اس خط کا جواب نہیں دیتا۔ یہی وجہ ہے کہ میرے اوپر لوگوں نے بے شمار تنقیدیں کی ہیں مگر آج تک کوئی یہ نہ کہہ سکا کہ میں نے اس کی بات کو غلط شکل میں پیش کیا ہے۔ 6 اپریل 1985 میری کتابوں میں سے ایک کتاب وہ ہے جس کا نام ہے: ”حل یہاں ہے“ (مطبوعہ نئی دہلی، 1985، صفحات 88)۔ یہ کتاب ہندوستان کے ہندو مسلم جھگڑوں کے بارے میں ہے۔ اس میں میں نے دکھایا ہے کہ ہندو مسلم جھگڑوں میں مسلمان قصور وار ہیں۔ اس کے شروع ہی میں یہ جملہ ہے: ”ہندوستان میں فرقہ وارانہ فسادات کا سبب خواہ کسی کے نزدیک جو بھی ہو مگر یہ ایک حقیقت ہے کہ یہ فسادات اگر بند ہوں گے، تو صرف اس وقت بند ہوں گے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page