Urdu book · اوراقِ حکمت

اوراقِ حکمت

Urdu book, p. 75

By Maulana Wahiduddin Khan

اصل یہ ہے کہ اجتماعی زندگی میں ہمیشہ مختلف قسم کے مسائل پیش آتے ہیں۔ اس بنا پر بار بار ایسا ہوتا ہے کہ ایک شخص کو دوسرے کی طرف سے ایسا تجربہ پیش آئے گا جو اس کی مرضی کے خلاف ہوگا، ایسے موقع پر صحیح طریقہ یہ ہے کہ اعراض کیا جائے، نہ کہ ٹکراؤ شروع کر دیا جائے۔ صحابی رسول عمیر بن حبیب بن خماشہ نے اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہوئے کہا: مَنْ لَّا يَرْضَى بِالْقَلِيلِ مِمَّا يَأْتِي بِهِ السَّفِيهُ يُرْضَى بِالْكَثِيرِ (المعجم الاوسط للطبرانی، حدیث نمبر 2258)۔ یعنی جو شخص نادان کی طرف سے پیش آنے والے چھوٹے شر کو برداشت نہیں کرے گا، اس کو نادان کے بڑے شر کو برداشت کرنا پڑے گا۔ اس قول صحابی میں اجتماعی زندگی کی ایک حکمت کو بتایا گیا ہے، یعنی جب فریق مخالف کی جانب سے کوئی ناموافق واقعہ پیش آئے تو ابتداہی میں صبر کرنا چاہیے۔ 1985ء 15اپریل جماعت اسلامی کے لوگوں نے مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی پر ایک کتاب چھاپی ہے جس کا نام ہے ”ایک شخص ایک کارواں۔“ اس کے مرتب جناب مجیب الرحمن شامی ہیں۔ اس کتاب میں مولانا ابوالاعلیٰ مودودی کی صدر ایوب سے ملاقات کا ذکر ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ صدر ایوب نے اپنی ملاقات میں کہا ”مولانا صاحب، آپ کی کتابیں میں نے پڑھی ہیں۔ واقعی آپ نے دین کی بہت خدمت کی ہے۔ مولانا صاحب میری ایک تجویز ہے۔ آپ جیسی بڑی علمی شخصیت کو اپنی عمدہ صلاحیتیں سیاست میں ضائع کرنے کے بجائے ان سے قومی تعمیر کا کوئی ٹھوس کام لینا چاہیے۔ اس غرض کے لیے میں چاہتا ہوں کہ ہم ملک کے اندر ایک شاندار اسلامی یونیورسٹی قائم کریں۔ آپ نے اخبارات میں پڑھا ہوگا کہ یہ یونیورسٹی میں نے بھاول پور میں قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کے لیے ابتدائی سرمایہ کے طور پر رواں بجٹ میں دو کروڑ روپیہ کی رقم مختص کر دی ہے۔ میں چاہتا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page