Urdu book · اوراقِ حکمت

اوراقِ حکمت

Urdu book, p. 76

By Maulana Wahiduddin Khan

ہوں کہ اس یونیورسٹی میں بہترین استادوں اور عمدہ انتظامات کے ذریعے خالص دینی علوم اس طرح پڑھائے جائیں کہ اس یونیورسٹی سے فارغ ہونے والے طلبہ دنیا بھر میں اسلام کی تبلیغ کا فریضہ سنبھالیں۔ اس یونیورسٹی کی سربراہی کے لیے آپ کا نام میرے ذہن میں آیا ہے۔ کیا یہ اچھا نہ ہوگا کہ آپ سیاست کے جھنجھٹ سے الگ ہو کر اس کام کا بیڑا اٹھائیں ، جو آپ کی اعلیٰ صلاحیتوں کے مطابق آپ کا اصل کام ہے۔ میں یہ بیان کردوں کہ یونیورسٹی کے لیے ہم نے دو کروڑ روپیہ کا جو ابتدائی فنڈ مختص کیا ہے، وہ رقم اور حکومت کی طرف سے اس کے بعد ملنے والی تمام گرانٹ سب پر آپ کو اپنی صوابدید کے مطابق مکمل تصرف کا اختیار ہوگا۔ اور آپ کو قانوناً آڈٹ وغیرہ کی پابندی سے مستثنیٰ قرار دے دیا جائے گا۔‘‘ (ایک شخص ایک کارواں، نئی دہلی، 1981 ، صفحہ 100) کتاب میں بتایا گیا ہے کہ مولانا ابو الاعلیٰ مودودی نے اس پیشکش کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ یہ پاکستان میں ان کی اختیار کردہ سیاست کا قدرتی نتیجہ تھا۔ جولوگ سیاسی اپوزیشن میں انوالو (involve) ہوں ، ان کو مذکورہ قسم کے تعمیری کام کام نہیں لگتے ہیں۔ حالاں کہ اصل کام یہی ہے کہ انسان اپنی کوششوں کو سیاسی ٹکراؤ کے میدان سے ہٹائے ، اور وہ اپنے آپ کو پوری طرح سماجی تعمیر کے کام میں لگا دے۔ 16 اپریل 1985 نصف صدی پہلے امیر شکیب ارسلان (1946-1869) نے ایک عربی کتاب لکھی تھی، جو مندرجہ ذیل نام سے چھپی تھی : لماذا تاخر المسلمون و تقدم غيرهم (مسلمان کیوں پیچھے ہو گئے ، اور ان کے سوا دوسرے لوگ آگے ہو گئے) مگر نصف صدی بعد بھی یہ سوال حل نہ ہوسکا۔ مجلہ رابطہ العالم اسلامی (ریاض) کی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page