Urdu book · اوراقِ حکمت

پیش لفظ

Urdu book, p. 8

By Maulana Wahiduddin Khan

دورانِ گفتگو میں نے کہا کہ مسیحیت کا بنیادی عقیدہ کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ کفارہ۔ میں نے کہا کہ آپ لوگ کفارہ کو بنیادی عقیدہ کہتے ہیں حالاں کہ وہ موجودہ انجیل میں کہیں واضح طور پر موجود ہی نہیں۔ انھوں نے کہا کہ ہے۔ میں نے انھیں انجیل کا انگریزی ترجمہ دیا کہ نکال کر بتائیے کہ کہاں ہے۔ وہ تقریباً آدھ گھنٹہ انجیل کے اوراق الٹتے رہے۔ بالآخر اس کا ایک صفحہ نکالا۔ میں نے کہا کہ یہ محض آپ کی تاویل ہے۔ ورنہ اس عبارت سے براہ راست طور پر کفارہ کا عقیدہ نہیں نکلتا۔ کیسی عجیب ہے موجودہ مسیحیت کہ اس کا بنیادی عقیدہ ہی انجیل کے عبارت النص میں موجود نہیں۔ اس کے برعکس، اگر آپ کسی مسلمان سے پوچھیں کہ قرآن کا بنیادی عقیدہ کیا ہے، تو وہ فوراً کہے گا کہ توحید۔ اس کے بعد اگر آپ پوچھیں کہ توحید کا عقیدہ کس آیت سے نکلتا ہے تو وہ فوراً پڑھ دے گا: قُلْ ھُوَ اﷲُ أَحَدُ (112:1)۔ کتنا فرق ہے، محرف دین میں اور غیر محرف دین میں۔ 9 جنوری 1985 سنگاپور جنوب مشرقی ایشیا میں ایک چھوٹا سا ترقی یافتہ ملک ہے۔ ایک صاحب سنگاپور سے تشریف لائے۔ انھوں نے بتایا کہ وہاں مسجدوں میں لاؤڈ اسپیکر سے اذانیں ہوتی ہیں۔ اس سلسلے میں وہاں کے غیر مسلم حضرات میں ناراضگی پیدا ہوگئی۔ خاص طور پر عشا اور فجر کی اذان کے متعلق ان کا مطالبہ ہے کہ اس کو لاؤڈ اسپیکر پر دینا بند کیا جائے۔ اس سلسلے میں سنگاپور کے بدھسٹ وزیر اعظم لی کوان یئو (Lee Kuan Yew) نے اپنی ایک تقریر میں مسلمانوں کو خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کی آزادی یہ ہے کہ آپ رات کے آخری حصے میں اذان دیں۔ میری آزادی یہ ہے کہ میں اس وقت اچھی نیند حاصل کروں: Your freedom is to call Azan in the late hours of the night. My freedom is to have a good sleep at that time.

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page