اوراقِ حکمت
Urdu book, p. 82
By Maulana Wahiduddin Khan
والے وہ ہیں، جو میرے مشن کو لے کر آگے بڑھیں، جو میرے اس دنیا سے جانے کے بعد اس دینی جدوجہد کے لیے پہلے سے زیادہ سرگرم ہو جائیں۔ میرا کام اللہ کے سچے دین کا اعلان و اظہار ہے۔ میری ساری دلچسپی صرف اس بات سے ہے کہ اللہ کی بڑائی بیان کی جائے۔ پیغمبر اسلام کی لائی ہوئی ہدایت کو آج کے انسانوں تک پہنچایا جائے۔ لوگوں کو آنے والے ہولناک دن سے ہوشیار کیا جائے۔ میرے بعد جو لوگ میرے اس مشن کے لیے سرگرم ہوں وہی میرے سچے ساتھی ہیں۔ اور جو لوگ نظم ونثر میں میری تعریف کریں، ان سے میرا کوئی تعلق نہیں۔ ان کی راہ الگ ہے اور میری راہ الگ۔ 24 اپریل 1985 میں اپنے دفتر میں بیٹھا ہوا ایک مضمون لکھ رہا تھا۔ خیالات مسلسل دماغ میں امنڈ رہے تھے۔ وہ الفاظ کی صورت میں ڈھل کر قلم پر آ رہے تھے، اور کاغذ پر مرتسم (inscription) ہوتے چلے جا رہے تھے۔ ایک لمحے کے لیے میرا ذہن اس طرف مڑ گیا کہ یہ سارا عمل کس طرح انجام پا رہا ہے۔ یہ سوچتے ہوئے میرے بدن میں کپکپی طاری ہو گئی۔ ایک نفسیاتی دھماکے کے ساتھ میرا قلم رک گیا۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو کیسی عجیب نعمتیں عطا فرمائی ہیں۔ مگر دنیا میں بہت کم لوگ ہیں، بلکہ شاید تاریخ میں بہت کم لوگ ایسے ہوئے ہیں، جو واقعی معنوں میں اس کا احساس کریں، اور اس طرح شکر ادا کریں، جس طرح شکر ادا کرنے کا حق ہے۔ علمی حدود کیا ہے۔ اس کو ذیل کے واقعے سے سمجھا جا سکتا ہے۔ علما کے ایک گروہ کا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader