24 اپریل 1985
Urdu book, p. 83
By Maulana Wahiduddin Khan
ماننا ہے کہ فاسق امیر کے ساتھ جہاد کرنا جائز ہے۔ اس کی مختلف دلیلوں میں سے ایک دلیل یہ دی جاتی ہے کہ حضرت ابوایوب انصاری (وفات 52 ھ) جو ایک جلیل القدر صحابی تھے، انھوں نے یزید بن معاویہ (وفات 64 ھ) کے ساتھ جہاد کیا۔ اس سلسلے میں فقیہ ابوبکر جصاص (وفات 370 ھ) نے لکھا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب خلفاء راشدین کے بعد فاسق امراء کے ساتھ جنگ کرتے تھے، اور ابوایوب انصاری نے یزید لعین کے ساتھ جنگ کی (وَقَدْ كَانَ أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَغْزُونَ بَعْدَ الْخُلَفَاءِ الْأَرْبَعَةِ مَعَ الْأُمَرَاءِ الْفُسَّاقِ وَغَزَا أَبُو أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيُّ مَعَ يَزِيدَ اللَّعِين) احکام القرآن للجصاص، جلد 4، صفحه 319۔ یزید کو لعین کہنا بذات خود قابل اعتراض ہے۔ کسی شخص کو ملعون قرار دینے کے لیے شرعی دلیل درکار ہے، اور یقیناً ایسی کوئی شرعی دلیل موجود نہیں، جو صراحتاً یزید کی ملعونیت کا اعلان کرتی ہو۔ دوسری بات یہ ہے کہ یزید کو جو لوگ بطور خود ملعون کہتے ہیں، وہ اس کی ملعونیت کو کربلا (61 ھ) کے واقعہ سے اخذ کرتے ہیں۔ مگر حضرت ابوایوب انصاری نے یزید کی ماتحتی میں جو غزوہ کیا تھا، وہ کربلا سے بہت پہلے کا واقعہ ہے۔ یہ قسطنطنیہ کا غزوہ تھا، جو امیر معاویہ کے زمانے میں 49 ھ میں پیش آیا، جب کہ یزید ابھی خلیفہ بھی نہیں ہوا تھا۔ پھر کیا وہ خلافت اور کربلا سے پہلے ہی ملعون تھا، کیا وہ ماں کے پیٹ سے ملعون پیدا ہوا تھا۔ ہمارے علما میں بہت کم ایسے لوگ ہیں جو علمی حدود کے پابند رہ کر بولتے ہوں۔ ہمارا قدیم وجدید لٹریچر غیر علمی بیانات سے بھرا ہوا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ میں اپنی دعوت کا آغاز کیا۔ وہاں آپ تقریباً 13 سال

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader