Urdu book · اوراقِ حکمت

24 اپریل 1985

Urdu book, p. 84

By Maulana Wahiduddin Khan

رہے ۔ مکہ والوں نے آپ کی سخت مخالفت کی ۔ یہاں تک کہ وہ آپ کو ہلاک کرنے کے درپے ہو گئے ۔ عین اسی وقت مکی دور کے آخری زمانے میں قرآن میں سورہ یوسف اتری ۔ اس میں بتایا گیا کہ یوسف کے بھائی یوسف کے دشمن ہو گئے ۔ انھوں نے ان کو ختم کرنے کے لیے ایک سنسان مقام پر لے جا کر ان کو اندھے کنویں میں ڈال دیا۔ یہاں تاجروں نے ان کو کنویں سے نکالا ، اور ان کو لے جا کر مصر پہنچا دیا۔ وہاں ان کے لیے اعلیٰ ترقی کی نئی راہیں کھلیں ۔ ایک اُسوۂ قصص احسن القصص میں تبدیل ہو گیا ۔ مکی دور کے آخر میں اس سورہ کا اترنا اس بات کا اشارہ تھا کہ پیغمبر اسلام کے ساتھ خدا کی مدد سے یہی معاملہ پیش آئے گا ۔ چنانچہ یہی ہوا کہ مکہ والوں نے آپ کو ہلاک کرنے کے غار میں ڈالنا چاہا مگر عین اسی وقت مدینہ میں آپ کے قدرداں پیدا ہو گئے ۔ آپ ان کی دعوت پر مکہ سے مدینہ پہنچ گئے اور وہاں آپ نے اسلام کی نئی تاریخ بنائی ۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ گویا میرے ساتھ بھی ایسا ہی کچھ معاملہ پیش آنے والا ہے ۔ میں 1956 سے 1962 تک جماعتِ اسلامی کے مرکزی شعبہ تصنیف و تالیف سے وابستہ تھا۔ اس کے بعد 1963 سے 1966 تک مجلس تحقیقات و نشریاتِ اسلام (ندوة العلما) لکھنؤ سے وابستہ رہا ۔ دونوں جگہ یہ صورت پیش آئی کہ وہ لوگ میری تنقیدوں سے برہم ہو گئے ۔ میرا غیر مصالحانہ انداز ان کے لیے ناقابل برداشت ہو گیا۔ چنانچہ دونوں جگہ سے علیحدگی عمل میں آئی ۔ اس کے بعد جمعیۃ علما کی دعوت پر میں 1967 میں دلی آیا، اور جمعیۃ علما ہند کے ہفت روزہ اخبار الجمعیۃ سے وابستہ رہا۔ یہاں بھی ابتدائی چند سالوں کے بعد اختلافات پیدا ہو گئے ۔ یہاں تک کہ 1974 میں انھوں نے مجھ کو الگ کر دیا ۔ اس کے بعد اللہ تعالی نے مجھے دلی کے مرکزی شہر میں ٹھہرانے کا انتظام کیا اور ایسے اسباب پیدا کیے کہ 1976 میں الرسالہ جاری ہوا۔ اور اب خدا کے فضل سے اسلامی مرکز کی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page