24 اپریل 1985
Urdu book, p. 86
By Maulana Wahiduddin Khan
یہ ایک مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ کون لوگ ہیں، جو کسی قوم کی تعمیر کرتے ہیں۔ قومی تعمیر کا کام ہمیشہ انفرادی قربانی کی قیمت پر ہوتا ہے۔ اس کے سوا قومی تعمیر کا کوئی دوسرا راستہ نہیں۔ 29 اپریل 1985 سورہ انعام (آیت 141) میں اسراف سے منع کیا گیا ہے۔ اس کی تفسیر کرتے ہوئے ایک مفسر قرآن لکھتے ہیں: ”قرآن مجید کا ایک اعجاز یہاں یہ ہے کہ احکام کے جزئیات بلکہ بعض اوقات تو جزئیات در جزئیات کے ضمن میں وہ ایسے حکیمانہ کلیات و اصول بیان کر جاتا ہے، جو زندگی کے سارے ہی شعبوں پر یکساں منطبق ہو جاتے ہیں۔ چنانچہ یہاں بھی چلتے چلتے ایک ایسا چٹکلا بیان کر دیا کہ انسان اگر اسی ایک پر عمل کرلے، تو اخلاق، معاملات، سیاسیات، معاشرت، غرض کیا انفرادی اور کیا اجتماعی ہر زندگی کے سارے شعبوں کی مشکلات دور ہو سکتی ہیں، اور بڑے سے بڑے پتھر پانی ہو کر رہ سکتے ہیں۔ (تفسیر ماجدی، جلد دوم صفحہ 466)۔ قرآن بلا شبہ ایک اعجازی کلام ہے۔ مگر یہ اعجاز قرآن کی تصغیر ہے کہ یہ کہا جائے کہ قرآن چٹگلے بیان کرتا ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ یہاں جس چیز کو چٹکلا کہا گیا ہے، وہ لا تسرفوا (اسراف نہ کرو) ہے۔ اس لحاظ سے بھی یہ ایک عجیب بات ہے۔ کیوں کہ ”اسراف نہ کرو“ ایک اہم شرعی اصول ہے، نہ کہ معروف معنوں میں کوئی چٹکلا۔ موجودہ زمانے کے مسلم قائدین کا معاملہ نہایت عجیب ہے۔ وہ بیک وقت نہایت کامیاب تھے، اور اسی کے ساتھ نہایت ناکام بھی۔ مثلاً 1952 میں مصر کی اخوان المسلمون

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader