Urdu book · اوراقِ حکمت

اوراقِ حکمت

Urdu book, p. 91

By Maulana Wahiduddin Khan

آخرت میں خدا کی جنت کے دروازے ان لوگوں کے لیے کھولے جائیں گے، جو دنیا میں اپنے دل کے دروازے خدا کی نصیحت کے لیے کھولیں۔ جنت اور جہنم کا فیصلہ دراصل دل کی دنیا میں ہوتا ہے۔ خدا اپنے کسی بندے کے ذریعہ آدمی کے دل کے دروازہ پر دستک دیتا ہے۔ وہ کسی بندۂ خاص کے ذریعے اس کے پاس اپنا پیغام بھیجتا ہے۔ یہ لمحہ کسی انسان کی زندگی میں نازک ترین لمحہ ہوتا ہے۔ اگر وہ اس وقت اپنے دل کے دروازے کھول دے تو گویا کہ اس نے اپنی جنت کا دروازہ کھول لیا۔ اگر وہ اس وقت اپنے دل کے دروازے بند ر کھے تو گویا اس نے اپنے اوپر جنت کے دروازے کو بند کر لیا۔ اس دنیا میں حق کو قبول کرنا یا حق کا انکار کرنا ہی وہ خاص لمحہ ہے جب کہ آدمی کے لیے ابدی جنت یا ابدی جہنم کا فیصلہ ہوتا ہے۔ 7 مئی 1985 قرآن کی سورہ المؤمن میں ان لوگوں کا ذکر ہے، جن کے لیے آخرت میں سزا کا فیصلہ ہوگا۔ ان کے اس برے انجام کی وجہ بتاتے ہوئے آیا ہے: ذَلِكُمْ بِأَنَّهُ إِذَا دُعِيَ اللَّهُ وَحْدَهُ كَفَرْتُمْ وَإِنْ يُشْرَكْ بِه تُؤْمِنُوا (40:12)۔ یعنی یہ تم پر اس لیے ہے کہ جب اکیلے اللہ کی طرف بلایا جاتا تھا تو تم انکار کرتے تھے، اور جب اس کے ساتھ شریک کیا جاتا تو تم مان لیتے ۔ یہی موجودہ دنیا میں انسان کی اصل گمراہی ہے۔ انسان کبھی ایسا نہیں کرتا کہ وہ مکمل طور پر ناحق کا علم بردار بن جائے۔ وہ ہمیشہ ایسا کرتا ہے کہ حق کے ساتھ ناحق کو ملاتا ہے، اور ملاوٹی حق کو اختیار کرتا ہے۔ اس کے مقابلے میں پیغمبروں کی دعوت بے آمیز حق کی دعوت ہوتی ہے ۔ پیغمبر اور غیر پیغمبر کی دعوت میں خالص منطقی اعتبار سے ، حق اور ناحق کا فرق نہیں ہے۔ بلکہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page