Urdu book · اوراقِ حکمت

اوراقِ حکمت

Urdu book, p. 92

By Maulana Wahiduddin Khan

بے آمیز حق اور آمیزش والے حق کا فرق ہے۔ یہی فرق ایک گروہ کو قابل انعام بناتا ہے، اور دوسرے گروہ کو قابل سزا۔ ملاوٹی حق سے انسان کو اتنی زیادہ دلچسپی کیوں ہے۔ اس کی وجہ صرف ایک ہے، اور وہ یہ کہ اس طریقہ کو استعمال کرنے میں آدمی کے اپنے جھوٹے دین کی نفی نہیں ہوتی۔ وہ خدا کو مانتے ہوئے بتوں کی پرستش کو بھی جاری رکھ سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جو لوگ ملاوٹی حق کو پیش کریں، وہ فوراً عوام کے اندر مقبولیت حاصل کر لیتے ہیں۔ ان کی باتوں میں ہر ایک اپنا recognition پالیتا ہے۔ ایسے لوگ ایک طرف اصول پرستی کی باتیں کرتے ہیں، اور دوسری طرف مفاد پرستی کی۔ ایک طرف وہ آفاقیت کا قصیدہ پڑھتے ہیں، اور دوسری طرف قوم پرستی کا ترانہ گاتے ہیں۔ وہ ایک طرف آخرت کا نام لیتے ہیں اور دوسری طرف دنیوی جھگڑوں میں بھی لوگوں کے ساتھ شریک رہتے ہیں۔ پیغمبر کی دعوت کے انکار کی وجہ یہ ہے کہ اس میں ہر ایک اپنی نفی محسوس کرنے لگتا ہے۔ اس کے مقابلہ میں ’’مشرک‘‘ لیڈر کو ماننے میں کسی کو اپنی نفی نظر نہیں آتی۔ اس میں کسی کو اپنی جگہ سے ہٹنے کی ضرورت پیش نہیں آتی۔ ہر آدمی جہاں ہے، وہیں وہ اپنے مفروضہ حق کو بھی پالیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مشرک کے ساتھ بھیڑ جمع ہو جاتی ہے، اور موحد اس دنیا میں اکیلا رہ جاتا ہے۔ 8 مئی 1985 ایک عرب پروفیسر سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے کہا کہ آپ کی جو عربی کتابیں یا مضامین میں نے پڑھے ہیں، ان میں الاسلام يتحدى (اردو ورژن: مذہب اور جدید چیلنج) فائق ہے، باقی سب اس کے تحت ہیں۔ میں نے کہا کہ ہمارے مشن کا اصل اظہار الاسلام يتحدى میں نہیں ہوا ہے، بلکہ دوسری کتابوں میں ہوا ہے۔ الاسلام يتحدى صرف اس مشن کی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page