Urdu book · اوراقِ حکمت

اوراقِ حکمت

Urdu book, p. 93

By Maulana Wahiduddin Khan

اعتباریت (credibility) ثابت کرنے کے لیے ہے، وہ خود مشن کا تعارف نہیں۔ میں نے کہا کہ حضرت موسیٰ نے فرعون کے سامنے لاٹھی کو سانپ بنا دیا۔ اب کوئی شخص کہے کہ حضرت موسیٰ نے نبوت ملنے کے بعد جو کچھ پیش کیا، ان میں عصا کا معجزہ سب پر فائق ہے، تو رات اس کے تحت ہے، تو یہ صحیح نہیں۔ کیوں کہ آپ کی دعوت میں تو رات اصل ہے اور عصا کا معجزہ ایک ضمنی (relative) حیثیت رکھتا ہے۔ الاسلام متحدی (مذہب اور جدید چیلنج) ہمارے مشن کو قابل اعتبار ثابت کرنے کے لیے ہے، نہ کہ خود وہی ہمارا مشن ہے۔ مولانا عبدالباری ندوی (1976-1886) اس طرح کی چیزوں کے بارے میں فرماتے تھے کہ یہ ”رکانہ کی کشتی“ ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو رکانہ (بن عبد یزید) پہلوان نے چیلنج کیا اور آپ نے کشتی لڑ کر اس کو ہرا دیا (الاصابة في تمييز الصحابة لابن حجر العسقلانی، جلد 2 ، صفحہ 413)۔ مگر رکانہ کی کشتی بظاہر ایک نمایاں واقعہ ہونے کے باوجود آپ کے مشن کا اصل یا اس کا فوق (central aspect) نہیں۔ وہ آپ کے مشن کی ایک ضمنی ضرورت ہے، نہ کہ خود وہی آپ کا مشن ہے۔ 9 مئی 1985 حقیقتِ واقعہ کو نہ ماننا صرف اس قیمت پر ہوتا ہے کہ واقعہ اپنی جگہ پر بدستور باقی رہے، اور آدمی خود واقعات کی دنیا سے بہت دور ہو جائے ۔ روس میں 1917 میں کمیونسٹ انقلاب آیا تو امریکہ نے سولہ سال تک اس کو تسلیم نہیں کیا۔ مگر اس کا کوئی فائدہ امریکہ کو نہ مل سکا۔ کلائڈ سینگر (Clyde Sanger) نے لکھا ہے کہ امریکا کو سوویت یونین کے تسلیم کرنے میں سولہ سال لگ گئے۔ اس سے اسٹالن کو یہ موقع ملا کہ وہ روسی عوام کے درمیان مغربی دنیا کے خلاف نفرت پیدا کرے اور ان کے گرد آہنی پردہ کھڑا کر سکے : It took the United States 16 years to recognize the

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page