Urdu book · اوراقِ حکمت

اوراقِ حکمت

Urdu book, p. 95

By Maulana Wahiduddin Khan

موجودہ زمانے کے مسلمانوں پر یہ بات پوری طرح صادق آتی ہے۔ ان کے سب کام ابھی تک نا کردہ پڑے ہوئے ہیں۔ مثلاً بین الاقوامی زبانوں میں اسلامی لٹریچر کا ترجمہ موجودہ زمانے میں عملاً یہ ہوا کہ بڑے بڑے قابل لوگ سیاسی اور ہنگامی کاموں میں پڑے رہے ۔ اور نسبتاً چھوٹے اور کم تر درجہ کے لوگوں نے ترجمہ کا کام کیا۔ مثلاً حدیث کی کتاب مشکوٰۃ المصابیح کا ترجمہ الحدیث (Al-Hadis) کے نام سے چار جلدوں میں شائع ہوا ہے۔ اس ترجمہ میں غیر ضروری قسم کا دیباچہ اور تشریح شامل کرکے اس کو خواہ مخواہ ضخیم بنا دیا گیا ہے۔ نیز اس کی زبان نہایت poor ہے۔ کوئی اچھا انگریزی داں اس کو پڑھ کر مشکل ہی سے گہرا تاثر قبول کر سکتا ہے۔ مسلمانوں کے اچھے انگریزی داں لوگ اس کام کو کرتے تو یہی کام کتنا زیادہ جاندار ہوتا۔ محمد اقبال اور محمد علی کی انگریزی زبان اچھی تھی۔ مگر محمد اقبال شاعری کرتے رہے، اور محمد علی نے اپنی ساری زندگی سیاسی ہنگاموں میں ضائع کردی۔ 1985ء 11 مئی حضرت آدم علیہ السلام نے کاشت کا کام کیا۔ حضرت نوح علیہ السلام نے بڑھئی کا کام کیا۔ حضرت داؤد علیہ السلام اپنے ہاتھ سے زرہ بناتے تھے (الانبیاء، 80: 21)۔ حضرت ادریس علیہ السلام نے کپڑا سینے کا کام کیا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بکریاں چرانے کا کام کیا (القصص، 28: 27-28)۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ایک مدت تک چرواہی کا کام کیا ہے (سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر 2149)۔ حقیقت یہ ہے کہ اپنے ہاتھ سے کام کرنا عین اسلامی طریقہ ہے۔ تمام پیغمبروں نے ایسا ہی کیا ہے۔ ہاتھ سے کام کر کے اپنی روزی کمانا عزت کی چیز ہے، نہ کہ ذلت کی چیز جس کو کرتے ہوئے آدمی شرمائے۔ حدیث میں آیا ہے : مَا أَكَلَ أَحَدٌ طَعَامًا قَطُّ، خَيْرًا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page