Urdu book · اوراقِ حکمت

اوراقِ حکمت

Urdu book, p. 96

By Maulana Wahiduddin Khan

مِنْ أَنْ يَأْكُلَ مِنْ عَمَلِ يَدِهِ، وَإِنَّ نَبِيَّ اللَّهِ دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلَامُ، كَانَ يَأْكُلُ مِنْ عَمَلِ يَدِهِ (صحیح البخاری ، حدیث نمبر 2072)۔ یعنی کسی نے کھانا نہیں کھایا، جو بہتر ہو اس انسان سے جو اپنے ہاتھ کے عمل سے کھاتا ہے۔ اور اللہ کے نبی داؤد علیہ السلام اپنے ہاتھ کے عمل سے کھایا کرتے تھے۔ ایک اور حدیث میں آیا ہے : إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُؤْمِنَ الْمُحْتَرِف (مسند الشہاب القضاعی ، حدیث نمبر 1072)۔ یعنی اللہ حرفت کے ذریعے روزی کمانے والے کو پسند کرتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہاتھ سے کام کرنے کو حقیر سمجھنا دورِ ملوکیت اور مسلمانوں کے دورِ زوال کی پیدا وار ہے۔ اسلام کے ابتدائی دور میں اس کو بالکل برا نہیں سمجھا جاتا تھا۔ 13 مئی 1985 قرآن میں زمین کے بارے میں ایک مقام پر خَلَقَ الْأَرْضَ (41:9) کے الفاظ ہیں۔ یعنی اللہ نے زمین کو خلق (create) کیا۔ دوسری جگہ اس سلسلے میں یہ الفاظ ہیں: وَالْأَرْضَ وَضَعَهَا لِلْأَنَامِ (55:10) ۔ یعنی اور زمین کو اس نے مخلوق کے لیے رکھ دیا۔ پہلی آیت سے مراد زمین کو وجود میں لانا ہے۔ دوسری آیت کا مطلب یہ ہے کہ خدا نے زمین کو اس کے صحیح ترین مقام پر رکھا۔ اس کو انام (ذی حیات اشیا) کے عین مطابق بنایا۔ یہ آیت اس بات کا ثبوت ہے کہ قرآن خدا کی کتاب ہے۔ نزولِ قرآن کے وقت کسی کو معلوم نہ تھا کہ ساری کائنات میں صرف زمین ہے، جو ذی حیات اشیا کے انتہائی مناسب حال بنائی گئی ہے۔ زمین کی جسامت (diameter) اگر موجودہ جسامت کا نصف ہو تو اسکی قوتِ کشش اتنی کم ہو جائے گی کہ انسان اور اس کے مکانات زمین پر ٹہر نہ سکیں۔ زمین کی جسامت اگر موجودہ جسامت کی دگنی ہو جائے تو اس کی قوتِ کشش اتنا بڑھ جائے گی کہ زمین پر چلنا پھرنا مشکل ہو جائے۔ اسی طرح سورج اور زمین کا فاصلہ اگر موجودہ فاصلہ کا دگنا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page