Urdu book · عورت معمارِ انسانیت

عورت معمارِ انسانیت

Urdu book, p. 9

By Maulana Wahiduddin Khan

کے معاملات درہم برہم ہو کر رہ جائیں گے۔ موجودہ زمانہ کی سب سے بڑی ٹریجڈی یہی ہے۔ موجودہ زمانہ میں مساوات کے غیر فطری نظریہ کے تحت یہ ہوا کہ عورت اور مرد دونوں باہر کے کام کو سنبھالنے کے لیے دوڑ پڑے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ باہر کی دنیا میں مصنوعی طور پر بے روزگاری (unemployment) کا مسئلہ پیدا ہوا۔ مردوں کے لیے روزگار کے مواقع پوری طرح موجود تھے۔ مگر جب عورتیں بھی اپنے گھروں سے نکل کر روزگار کے مواقع میں حصہ دار بن گئیں تو یہ تناسب قدرتی طور پر ٹوٹ گیا اور وہ مسئلہ پیدا ہو گیا جس کو بے روزگاری کا مسئلہ کہا جاتا ہے۔ دوسری طرف یہ ہوا کہ عورتیں اپنے گھروں سے باہر نکل آئیں۔ انہوں نے اپنی ان ذمہ داریوں کو چھوڑ دیا جو انہیں فطری نظام کے تحت اپنے گھروں کے اندر انجام دینا تھا۔ فطرت کے نظام کو توڑنے کا نتیجہ نہایت بری شکل میں نکلا۔ سماج کے اندر نئے نئے سنگین مسئلے پیدا ہو گئے۔ عورتوں کے باہر آنے سے کوئی نیا تعمیری کام نہ ہو سکا۔ کیوں کہ گھر سے باہر آ کر جو کام انہوں نے سنبھالا اس کو کرنے کے لیے معقول تعداد میں لوگ موجود تھے مگر جہاں تک گھر کا تعلق ہے وہ صرف عورتوں کو کرنا تھا، اس لیے وہ اجڑ کر رہ گیا۔ موجودہ زمانہ میں انسانی سماج بے شمار مسائل سے دوچار ہے۔ یہ مسائل براہ راست یا بالواسطہ طور پر اس تلخ حقیقت سے جڑے ہوئے ہیں کہ سماجی زندگی کے ایک شعبہ میں ضرورت سے زیادہ کام ہو رہا ہے اور سماجی زندگی کے دوسرے شعبہ میں سرے سے کام ہونا ہی بند ہو گیا ہے۔ ضرورت ہے کہ اس معاملہ میں از سر نو غور کیا جائے اور ری اسسمنٹ (reassessment) کے ذریعہ پھر سے سمجھا جائے کہ زندگی کی تشکیل کا صحیح فطری نظام کیا ہے۔ ذریعہ سکون، نہ کہ ذریعہ تفریح خدا کے تخلیقی نقشہ کے مطابق، عورت کو مرد کے لیے سکون کا ذریعہ بنایا گیا ہے نہ کہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page