فطرت کا نظام
Urdu book, p. 8
By Maulana Wahiduddin Khan
کوئی فرق نہیں۔ دونوں یکساں طور پر برابر کے عزت اور احترام کے مستحق ہیں۔ تقسیم کار کا اصول اسی طرح قرآن کے مطابق، خاندانی تنظیم کا ایک اصول یہ ہے کہ عورت بنیادی طور پر گھر کے داخلی نظام کو سنبھالے اور مرد بنیادی طور پر معاش کی فراہمی کا ذمہ دار ہو۔ یہ بات قرآن میں اس طرح بتائی گئی ہے: الرِّجَالُ قَوَّامُونَ عَلَى النِّسَاءِ بِمَا فَضَّلَ اللَّهُ بَعْضَهُمْ عَلَى بَعْضٍ وَبِمَا أَنْفَقُوا مِنْ أَمْوَالِهِمُ (4:34)۔ یعنی، مرد عورتوں کے اوپر قُوَّام ہیں، اس بنا پر کہ اللہ نے ایک کو دوسرے پر فضیلت دی ہے اور اس بنا پر کہ مرد نے اپنے مال خرچ کیے ۔ اس آیت میں فضیلت کا لفظ امتیاز کے معنیٰ میں نہیں ہے، بلکہ وہ مزید استعداد (additional quality) کے معنیٰ میں ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ تخلیقی نقشہ کے مطابق مرد کو جسمانی اعتبار سے زیادہ مضبوط (strong) بنایا گیا ہے۔ وہ سختیوں کو سہنے کی زیادہ صلاحیت رکھتا ہے۔ مرد کے اندر یہ اضافی صلاحیت اس لیے رکھی گئی ہے تا کہ وہ معاشی جد و جہد کی مشکلات کو برداشت کرے ۔ وہ سرد و گرم حالات کا مقابلہ کرتے ہوئے اپنے لیے اور اپنے اہل خانہ کے لیے رزق حاصل کرے۔ تخلیقی نقشہ کے مطابق، عورت کا کام بنیادی طور پر گھر کے داخلی نظام کو سنبھالنا ہے، اسے اگلی نسل کے افراد کو تیار کرنا ہے۔ اس بنا پر عورت کے اندر اس خاص پہلو سے کچھ اضافی خصوصیت (additional quality) رکھی گئی ہے۔ مثلاً نرمی اور انفعالیت وغیرہ۔ اگر عورت اور مرد دونوں اس تخلیقی راز کو سمجھیں اور دونوں اپنے اپنے دائرہ میں اپنی صلاحیتوں کو استعمال کریں تو گھر کے اندر کا نظام اور گھر کے باہر کا نظام دونوں یکساں طور پر کامیابی کے ساتھ چلے گا۔ اور اگر اس تخلیقی نقشہ کی رعایت نہ کی جائے تو خاندانی زندگی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader