ذریعہ سکون، نہ کہ ذریعہ تفریح
Urdu book, p. 10
By Maulana Wahiduddin Khan
تفریح کا ذریعہ۔ یہ بات قرآن میں ان الفاظ میں بتائی گئی ہے: وَمِنْ آيَاتِهِ أَنْ خَلَقَ لَكُم مِّنْ أَنفُسِكُمْ أَزْوَاجًا لِّتَسْكُنُوا إِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُم مَّوَدَّةً وَرَحْمَةً إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَاتٍ لِّقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ (30:21)۔ یعنی خدا کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ اس نے تمہاری جنس سے تمہارے لیے جوڑے پیدا کیے تا کہ تم ان سے سکون حاصل کرو۔ اور اس نے تمہارے درمیان محبت اور رحمت رکھ دی۔ بے شک اس میں نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو غور کرتے ہیں۔ خدا کے تخلیقی نقشہ کے مطابق ، عورت اسی طرح بنائی گئی ہے کہ وہ زندگی میں مرد کے لیے سکون کا ذریعہ بنے۔ یہ پہلو دونوں ہی صنفوں کے لیے بے حد اہم ہے۔ اگر دونوں صنف کے لوگ اس پہلو کو سامنے رکھیں تو دونوں کو یہ فائدہ ہوگا کہ وہ زندگی کے مسائل سے متعدل طور پر نپٹ سکیں گے۔ وہ زندگی کے سفر کو کامیابی کے ساتھ جاری رکھیں گے۔ مگر موجودہ زمانہ میں فطرت کے اس اصول کو بدل دیا گیا ہے۔ مردوں نے عورت کو اپنے لیے تفریح (entertainment) کا ذریعہ سمجھ لیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ زندگی کا پورا نقشہ بگڑ کر رہ گیا۔ عورت کو فطری طور پر جہاں اپنا حصہ ادا کرنا تھا وہاں وہ اپنا حصہ ادا نہ کرسکی اور دوسری جگہ جہاں حصہ ادا کرنا تخلیقی نقشہ میں شامل نہ تھا، وہاں وہ اپنے آپ کو زیادہ سے زیادہ پر کشش بنانے میں مصروف ہوگئی۔ یہ ایک غیر فطری صورت حال تھی۔ اس نے زندگی کے سارے معاملات کو بگاڑ کر رکھ دیا۔ اس کا نتیجہ ہے کہ آج کی عورت کی سب سے زیادہ توجہ اپنی فطری ذمہ داریوں کی ادائیگی پر نہیں ہے بلکہ اپنے جسم کی آرائش پر ہے۔ بیوٹیفیکیشن (beautification) نے جنون کی حیثیت اختیار کرلی ہے۔ یہ عورتیں اپنے اوقات کا بڑا حصہ غیر ضروری طور پر اپنے جسم کی مصنوعی تزئین میں صرف کرتی ہیں۔ اس شوق نے ان کو نیم برہنگی تک پہنچادیا ہے۔ اس کا ایک نتیجہ وہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader