عورت سرمایہ حیات
Urdu book, p. 99
By Maulana Wahiduddin Khan
فائدے کی امید رکھے ۔ وہ دنیوی معاملہ سے محرومی کے باوجود یہ یقین رکھے کہ زیادہ چیز اب بھی آخرت کے انعام کی صورت میں اس کے پاس محفوظ ہے اور وہ اللہ کی رحمت سے اس کو مل کر رہے گی ۔ حقیقت یہ ہے کہ کامیاب ازدواجی زندگی بھی ایک نقشہ امتحان ہے اور بظاہر ناکام ازدواجی زندگی بھی ایک نقشہ امتحان ۔ زندگی کے دونوں ہی نقشہ میں اصل قابلِ لحاظ بات یہ ہے کہ عورت اور مرد منفی ردعمل سے اپنے آپ کو بچائیں اور اپنے آپ کو مثبت ردعمل پر قائم رکھیں ۔ وہ ہر ناخوش گوار بات کو وقتی سمجھ کر اسے نظر انداز کر دیں ۔ وہ ہر حال میں اپنی توجہ اگلی دنیا کی کامیابی پر لگائے رہیں ۔ یہی کامیاب ازدواجی زندگی کا اصول ہے ۔ اس کے سوا کوئی بھی دوسرا اصول موجودہ دنیا میں قابلِ عمل نہیں ۔ قرآن کی سورہ الفجر میں ارشاد ہوا ہے : پس انسان کا حال یہ ہے کہ جب اس کا رب اس کو آزماتا ہے اور وہ اس کو عزت اور نعمت دیتا ہے تو وہ کہتا ہے کہ میرے رب نے مجھ کو عزت دی ۔ اور جب وہ اس کو آزماتا ہے اور وہ اس کا رزق اس پر تنگ کر دیتا ہے تو وہ کہता ہے کہ میرے رب نے مجھ کو ذلیل کر دیا (16-89:15) ۔ قرآن کی اس آیت میں خدا کی تخلیق اسکیم کو بتایا گیا ہے ۔ اس اسکیم کے مطابق ، انسان کی تخلیق کا اصل مقصد ابتلا ( آزمائش ) ہے ۔ یہاں اگر کسی مرد یا عورت کو مادی نعمت زیادہ ملتی ہے تو وہ اس کے لیے آزمائش کا ایک پرچہ ہوتا ہے ۔ اسی طرح اگر کسی عورت یا مرد کو مادی سازوسامان کم دیا جاتا ہے تو وہ بھی اس کے لیے امتحان کا ایک پرچہ ہوتا ہے ۔ لیکن نادان لوگوں کا حال یہ ہوتا ہے کہ مادی فراوانی ہو تو وہ احساسِ برتری میں مبتلا ہو جاتے ہیں ۔ اور اگر مادی تنگی ہو تو وہ احساس کمتری کا شکار ہو جاتے ہیں ۔ مگر یہ دونوں قسم کے ردعمل خدا کی اسکیم کے خلاف ہیں ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader