عورت سرمایہ حیات
Urdu book, p. 98
By Maulana Wahiduddin Khan
حقیقت یہ ہے کہ موجودہ دنیا میں زندگی کا ہر نقشہ امتحان کا نقشہ ہے۔ جس عورت یا مرد کو جو زندگی ملی ہے وہ اس کے لیے امتحان کا ایک پرچہ ہے۔ یہاں ہر ایک یکساں طور پر اپنا اپنا امتحان دے رہا ہے۔ گویا کہ موجودہ دنیا ایک بڑا امتحان ہال ہے۔ یہاں کسی عورت یا مرد کو جو کچھ ملتا ہے وہ اس کے لیے امتحان کا ایک پرچہ ہے۔ بظاہر اس دنیا میں زندگی کے بہت سے نقشے دکھائی دیتے ہیں مگر اپنی حقیقت کے اعتبار سے ہر نقشہ ایک نقشہ امتحان ہے۔ ہر ایک کو کسی نقشہ امتحان میں رکھ کر اس کو جانچا جا رہا ہے۔ عورت یا مرد، خواہ وہ شادی شدہ ہوں یا غیر شادی شدہ، ہر صورت میں ان کو طرح طرح کے احوال پیش آتے ہیں۔ ان احوال کے دوران ان کے اندر بار بار مختلف قسم کے جذبات ابھرتے ہیں۔ کبھی ان کو کسی سے شکایت ہو جاتی ہے، کبھی ان کو کسی کے ہاتھوں نقصان اٹھانا پڑتا ہے، کبھی کسی کی بات پر ان کو غصہ آجاتا ہے، کبھی کسی کے خلاف حسد کے جذبات ابھر جاتے ہیں۔ کبھی وہ چاہتے ہیں کہ وہ انتقام لیں، وہ غیر منصفانہ طور پر اپنا قبضہ قائم کرنے کے لیے منصوبہ بناتے ہیں، وہ کسی کا حق مارنے کے درپے ہو جاتے ہیں۔ اس طرح کے حالات میں عورت اور مرد دونوں اپنی جائز حد سے باہر ہو جاتے ہیں۔ وہ جذبات سے مغلوب ہو کر سب کچھ کچروڈالنا چاہتے ہیں۔ جب وہ کوئی چیز کھوتے ہیں تو اس کا کھونا ان کے لیے ناقابل برداشت بن جاتا ہے۔ ایسے حالات میں اسلام کا تصور حیات کسی عورت یا مرد کا سب سے بڑا مددگار ہے۔ اس تصور حیات کا یہ نتیجہ ہے کہ وہ دنیا کے مادی فائدہ اور نقصان کو ثانوی چیز بنا دیتا ہے اور آخرت کے فائدہ اور نقصان کو اولین اہمیت کی چیز۔ اس طرح اسلام کا عقیدہ عورت یا مرد کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ ہر نقصان کو گوارا کر کے اپنے آپ کو اعتدال کی حالت پر قائم رکھے۔ وہ ہر صدمہ کو وقتی چیز سمجھ کر اس کو نظر انداز کر دے۔ اسلام کا تصور حیات کسی عورت یا مرد کا یہ مزاج بناتا ہے کہ وہ نقصان کے بعد بھی عظیم

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader