Urdu book · عورت معمارِ انسانیت

عورت سرمایہ حیات

Urdu book, p. 101

By Maulana Wahiduddin Khan

عائشہ صدیقہ عائشہ بنت ابی بکر کو اسلام کی تاریخ میں خاتون اول (first lady) کا مقام حاصل ہے۔ وہ خلیفہ اول ابو بکر صدیق کی صاحبزادی تھیں، پھر وہ پیغمبر اسلام کی زوجہ محترمہ بنیں ۔ عائشہ صدیقہ قرآن کی ایک بڑی عالِم تھیں ۔ علم حدیث میں ان کو مجتہدانہ حیثیت حاصل تھی۔ عائشہ صدیقہ کے والد ابو بکر بن قحافہ تھے اور اُن کی والدہ کا نام اُم رومان بنت عامر تھا۔ وہ مکہ میں نبوت کے پانچویں سال پیدا ہوئیں ۔ مولانا سید سلیمان ندوی نے اس سلسلہ میں مختلف روایتوں کا جائزہ لے کر بتایا ہے کہ اُن کی تاریخ پیدائش غالباً شوال 9 قبل ہجرت مطابق جولائی 614ء ہے ۔ (سیرت عائشہ، سید سلیمان ندوی، مطبوعہ شبلی اکیڈمی اعظم گڑھ، صفحہ (19) عائشہ صدیقہ کا حافظہ بہت غیر معمولی تھا۔ اُن کو اپنے بچپن کے زمانہ تک کی اکثر باتیں یاد تھیں ۔ عرب شعراء کا کلام اُن کو اتنا زیادہ یاد تھا کہ اکثر معاملات میں وہ کوئی نہ کوئی شعر پڑھ دیا کرتی تھیں ۔ اپنے اہل خاندان کے ساتھ نبوت کے تیرہویں سال پیغمبر اسلام نے ابو بکر صدیق کے ساتھ ہجرت فرمائی ۔ عائشہ صدیقہ بھی اپنے اہل خاندان کے ساتھ مکہ سے مدینہ آگئیں ۔ قوت حافظہ کے ساتھ ساتھ وہ غیر معمولی طور پر اناذ تھیں ۔ ہجرت کے وقت اُن کی عمر صرف آٹھ سال تھی ۔ لیکن اس کم عمری میں اُن کی قوت حافظہ کا یہ حال تھا کہ ہجرت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام واقعات بلکہ تمام جزئی باتیں اُن کو یاد تھیں ۔ اُن سے بڑھ کر کسی صحابی نے ہجرت کے واقعات کا مسلسل بیان محفوظ نہیں رکھا ہے۔ عائشہ صدیقہ کے بارے میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: فَضْلُ عَائِشَةَ عَلَى النِّسَاءِ كَفَضْلِ التَّرِيدِ عَلَى سَائِرِ الطَّعَامِ (صحیح البخاری، حدیث نمبر (3433) ۔ یعنی، عائشہ کی فضیلت

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page