عورت سرمایہ حیات
Urdu book, p. 102
By Maulana Wahiduddin Khan
دوسری تمام عورتوں پر ویسی ہی ہے جیسے کہ ثرید کی فضیلت دوسرے کھانوں پر۔ پیغمبرِ اسلام کا پہلا نکاح مکہ میں خدیجہ بنتِ خویلد سے ہوا جب کہ آپ کی عمر 25 سال تھی۔ ہجرت سے تین سال پہلے خدیجہ کی وفات ہو گئی۔ اُس کے بعد آپ کا دوسرا نکاح عائشہ بنت ابی بکر سے ہوا۔ اس نکاح میں پیغام رسانی کا کام خولہ بنت حکیم نے کیا تھا۔ حدیث کی کتابوں سے معلوم ہوتا ہے کہ عائشہ صدیقہ کا نکاح پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مکہ میں ہوا۔ اُس وقت عائشہ صدیقہ کی عمر 6 سال تھی ۔ آپ کی رخصتی ہجرت کے بعد مدینہ میں ہوئی۔ اُس وقت آپ کی عمر نو سال ہو چکی تھی (مسند احمد، حدیث نمبر 24867)۔ عائشہ صدیقہ کا نکاح خود اُن کے والد ابو بکر صدیق نے پڑھایا (مستدرک الحاکم، حدیث نمبر 2704)۔ روایات کے مطابق، آپ کی مہر پانچ سودرہم تھی (صحیح مسلم، حدیث نمبر 1426)۔ قدیم زمانہ میں عرب میں تعلیم کا رواج نہ تھا۔ بہت کم لوگ لکھنا پڑھنا جانتے تھے ۔ اس قلیل تعداد میں ایک نام ابو بکر صدیق کا تھا۔ اس خاندانی روایت کی بنا پر عائشہ صدیقہ کو بھی یہ موقع ملا کہ وہ لکھنا اور پڑھنا سیکھ لیں۔ چنانچہ وہ قرآن کو دیکھ کر پڑھتی تھیں ۔ بعض روایات کے مطابق ، ان کو لکھنا بھی آتا تھا۔ چنانچہ وہ خط کا جواب تحریری شکل میں دے سکتی تھیں۔ تعلیم و تربیت عائشہ صدیقہ کے حالات میں بتایا گیا ہے کہ وہ علمی اعتبار سے صحابہ کے درمیان ایک ممتاز حیثیت رکھتی تھیں۔ کہا جاتا ہے کہ وہ مسلم خواتین میں سب سے بڑی فقیہ تھیں اور دین و ادب میں وہ اُن سب سے زیادہ علم رکھتی تھیں: افقه نساء المسلمین و اعلمهن بالدین والأدب ( الاعلام للزرکلی، جلد 3 صفحہ 240)۔ ایک اور روایت میں یہ الفاظ ہیں: كَانَتْ عَائِشَةُ، أَفْقَهُ النَّاسِ وَأَعْلَمُ النَّاسِ وَأَحْسَنُ النَّاسِ رَأْيَا فِي الْعَامَّةِ (مستدرک الحاکم، حدیث نمبر 6748)۔ یعنی، عائشہ لوگوں میں سب

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader