Urdu book · عورت معمارِ انسانیت

عورت سرمایہ حیات

Urdu book, p. 103

By Maulana Wahiduddin Khan

سے زیادہ فقیہ، سب سے زیادہ صاحب علم اور عوام میں سب سے اچھی رائے والی خاتون تھیں۔ ابو موسیٰ اشعری کہتے ہیں: مَا أَشْكَلَ عَلَيْنَا أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثٌ قَطُّ فَسَأَلْنَا عَائِشَةَ إِلَّا وَجَدْنَا عِنْدَهَا مِنْهُ عِلْمًا (سنن الترمذی، حدیث نمبر (3883 - یعنی، اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو جب بھی کسی مسئلہ میں کوئی اشکال ہوتا تو ہم عائشہ رضی اللہ سے اُس کی بابت پوچھتے اور اُن کے پاس ہم اُس کے بارے میں کوئی علم پا لینے۔ عائشہ صدیقہ کے علم کے بارے میں اس طرح کی باتیں حدیث وسیرت کی کتابوں میں آئی ہیں۔ اُن سے ایک اہم مسئلہ معلوم ہوتا ہے۔ اور وہ اسلام میں خواتین کی تعلیم کی اہمیت کا مسئلہ ہے۔ عائشہ صدیقہ کو یہ علم پیدائشی طور پر نہیں ملا تھا اور نہ مل سکتا تھا۔ یقینی طور پر اُن کو یہ علم اُس وقت اسلامی معاشرہ میں حاصل ہوا۔ عائشہ صدیقہ کے والد ابو بکر صدیق قدیم عرب کے اُن ڈیڑھ درجن افراد میں شمار کیے جاتے تھے جو لکھنا پڑھنا جانتے تھے۔ چنانچہ عائشہ صدیقہ کا پہلا تعلیمی ادارہ خود ان کا گھر بنا۔ اپنے والد سے انہوں نے حکیمانہ اشعار اور عرب خطباء کے کلام کو سنا اور ان کو حفظ کر لیا۔ اسی طرح انہوں نے اپنے والد سے علم الانساب سیکھا جو یا عرب تاریخ کا علم حاصل کرنے کے ہم معنی تھا۔ نکاح کے بعد جب وہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت میں آئیں تو اُن کو یہ موقع ملا کہ وہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم جیسے معلم سے علم حاصل کریں۔ چنانچہ یہ سلسلہ ہر دن کسی نہ کسی صورت میں جاری رہتا تھا۔ اس حلقہ درس کی مثالیں کثرت سے حدیث کی کتابوں میں ملتی ہیں۔ اس کے علاوہ عائشہ صدیقہ کی رہائش گاہ جو ایک حجرہ پر مشتمل تھی وہ قدیم مسجد نبوی سے بالکل متصل واقع تھی۔ پیغمبر اسلام کی تعلیمی مجلسیں جو ہر روز مسجد میں جاری رہتی تھیں وہ اپنے حجرہ میں رہتے ہوئے ان کو سنا کرتی تھیں۔ دینی علوم کی تعلیم کا کوئی وقت مخصوص نہ تھا۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page