عورت سرمایہ حیات
Urdu book, p. 104
By Maulana Wahiduddin Khan
شب و روز اُن کو حاصل تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم کے حلقے روزانہ مسجد نبوی میں منعقد ہوتے تھے۔ عائشہ صدیقہ کا حجرہ اس سے بالکل قریب تھا۔ اس بنا پر آپ گھر سے باہر بھی لوگوں کو جو درس دیتے تھے، وہ اس میں شریک رہتی تھیں۔ اگر کبھی دوری کی وجہ سے کوئی بات سمجھ میں نہ آتی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب حجرہ میں آتے تو وہ اس کو دریافت کرلیتیں۔ کبھی اٹھ کر مسجد کے قریب چلی جاتیں۔ اس کے علاوہ آپ نے عورتوں کی درخواست پر ہفتہ میں ایک خاص دن ان کی تعلیم و تلقین کے لیے متعین فرمادیا تھا۔ اس طرح کے حوالے جو عائشہ صدیقہ کی نسبت سے حدیث و سیر کی کتابوں میں آئے ہیں، وہ صرف خاتونِ اول کی سیرت کو نہیں بتاتے بلکہ خود اسلامی معاشرہ کی ایک خصوصیت کو بتاتے ہیں۔ اسلامی معاشرہ نہ صرف مردوں کے لیے بلکہ عورتوں کے لیے بھی ایک وسیع تر تعلیم گاہ کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس معاشرہ میں خواتین کی تعلیم کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے۔ ان کو اپنے علمی شوق کی تکمیل کے مواقع دیے جاتے ہیں۔ حتی کہ یہ بھی ممکن ہے کہ ایک خاتون اپنی محنت کے ذریعہ علم میں مردوں سے بھی آگے بڑھ جائے، جیسا کہ عائشہ صدیقہ کے ساتھ پیش آیا۔ تعلیم و تربیت کے معاملہ میں عائشہ صدیقہ کی حیثیت ایک منفرد یا استثنائی شخصیت کی نہیں ہے بلکہ وہ اس معاملہ میں ایک رول ماڈل کی حیثیت رکھتی ہیں۔ علم کے میدان میں ان کی سبقت مسلم خواتین کے لیے ایک رہنما مثال ہے۔ پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم سے براہ راست دینی تربیت حاصل کرنے کا موقع جتنا زیادہ عائشہ صدیقہ کو ملا، شاید کسی مرد یا عورت کو نہیں ملا۔ مزید یہ کہ عائشہ صدیقہ اس وقت اپنی ابتدائی عمر میں تھیں۔ اس لیے وہ اُس ذہنی مسئلہ سے مکمل طور پر محفوظ تھیں جس کو نفسیات کی اصطلاح میں کنڈیشنگ (conditioning) کہا جاتا ہے۔ عمر کے لحاظ سے وہ اس پوزیشن میں تھیں کہ وہ ہر بات کو بے آمیز ذہن سے سنیں اور وہ فوراً اُن کے ذہن کا جزء بن جائے۔ اسی کے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader