Urdu book · عورت معمارِ انسانیت

عورت سرمایہ حیات

Urdu book, p. 105

By Maulana Wahiduddin Khan

ساتھ عائشہ نہایت ذہین اور اخاڈ طبیعت کی مالک تھیں۔ اس لیے وہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی ہر بات کو اُس کی پوری گہرائی کے ساتھ سمجھ لیتیں۔ پیغمبر اگرچہ ہمیشہ جوامع الکلم کی زبان میں گفتگو فرماتے تھے، مگر وہ اپنی غیر معمولی قوت استنباط کی بنا پر اُس کو اُس کے تمام تفصیلی پہلوؤں کے ساتھ سمجھ لیتیں اور اس کو اپنے حافظہ میں محفوظ رکھتی تھیں۔ عائشہ صدیقہ کو پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم سے استفادہ کا جو خصوصی موقع ملا اُسی کا نتیجہ تھا کہ وہ دین کی فہم و بصیرت میں اتنی ممتاز بن گئیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد بڑے بڑے صحابہ اُن سے رجوع کرتے اور اُن کے ذریعہ حکمتِ نبوت کی تعلیم حاصل کرتے۔ شخصیت کی تعمیر عائشہ صدیقہ اسلام کی تاریخ میں ایک استثنائی شخصیت کی حیثیت رکھتی ہیں۔ یہ شخصیت کیسے بنی اس کی تفصیلات حدیث اور سیرت کی کتابوں میں موجود ہیں ۔ عائشہ صدیقہ قرآن کا مسلسل مطالعہ کرتی رہتی تھیں۔ اُن کی زندگی کا کوئی اور مقصد نہ تھا۔ مزید یہ کہ اُن کے لیے حصولِ علم کا سب سے بڑا ذریعہ براہِ راست پیغمبر اسلام سے استفادہ تھا۔ اس استفادہ کا سلسلہ مختلف صورتوں میں برابر جاری رہتا تھا، دن کے اوقات کے علاوہ رات کے لمحات میں بھی۔ اس معاملہ کی ایک مثال اس روایت میں ملتی ہے جس میں عائشہ صدیقہ خود بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فجر سے پہلے کی دو رکعت نماز پڑھتے۔ اُس وقت اگر میں بیدار ہوتی تو وہ مجھ سے بات کرتے ورنہ آپ لیٹ جاتے : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّى رَكْعَتَيْ الْفَجْرِ، فَإِنْ كُنْتُ مُسْتَيْقِظَةً حَدَّثَنِي، وَإِلَّا اضْطَجَعَ (صحیح مسلم ، حدیث نمبر 743 ) ۔ اس روایت میں عائشہ صدیقہ نے حدثنی کا لفظ استعمال کیا ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم مجھ سے حدیث بیان کرتے تھے۔ بلکہ اس کا مطلب یہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page