عورت سرمایہ حیات
Urdu book, p. 106
By Maulana Wahiduddin Khan
ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم مجھ سے گفتگو کرتے تھے۔ یہ گفتگو یقینی طور پر دینی اور علمی موضوعات پر ہوتی تھی، عائشہ صدیقہ خود بھی اس کی ایک حصہ دار ہوتی تھیں۔ گویا یہ ایک قسم کا فکری تبادلہ (intellectual exchange) ہوتا تھا۔ اس طرح یہ ممکن ہوا کہ عائشہ صدیقہ کے اندر ذہنی ارتقاء کا عمل (process) مسلسل طور پر جاری رہے۔ یہاں تک کہ ان کے اندر وہ اعلیٰ صفت پیدا ہو جائے جس کے تحت وہ اسلام کی تاریخ میں اُس رول کو ادا کر سکیں جو انہوں نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد نصف صدی تک ادا کیا۔ رات کی تنہائی کے اس قیمتی وقت کو پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح استعمال فرماتے کہ آپ عائشہ صدیقہ کی فکری اور روحانی تربیت کرتے۔ یعنی وہی چیز جس کو قرآن میں تزکیہ اور تعلیم حکمت بتایا گیا ہے۔ اس معاملہ کی مزید وضاحت کے لیے یہاں حدیث اور سیرت کی کتابوں سے کچھ مزید حوالے نقل کیے جاتے ہیں۔ ان سے اندازہ ہوگا کہ زمانہ نبوت میں عائشہ صدیقہ کی شخصیت کس طرح تعمیر ہوئی۔ عائشہ صدیقہ کا تبادلہ خیال پیغمبر اسلام سے کس طرح ہوتا تھا، اس کی ایک مثال یہ ہے کہ ایک بار پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: مَنْ حُوسِبَ عُذِّبَ (جس کا حساب لیا گیا وہ عذاب میں مبتلا ہوا)۔ عائشہ صدیقہ نے اس سلسلہ میں سوال کیا کہ اے خدا کے رسول، خدا نے قرآن میں اس کے بجائے یہ فرمایا ہے کہ: فَسَوْفَ يُحَاسَبُ حِسَابًا يَسِیرًا (84:8)۔ یعنی آپ مطلق طور پر فرما رہے ہیں کہ حساب کے بعد آدمی بچ نہیں سکتا۔ حالاں کہ قرآن کے بیان کے مطابق، حساب کے بعد بھی آدمی عذاب سے بچ سکتا ہے۔ پیغمبر اسلام نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ یہ اعمال میں پیشی کی بات ہے۔ لیکن جس کے اعمال میں جرح و قدح شروع ہوئی تو وہ ہلاک ہوا (صحیح البخاری، حدیث نمبر 103)۔ اس مثال

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader