Urdu book · عورت معمارِ انسانیت

عورت سرمایہ حیات

Urdu book, p. 107

By Maulana Wahiduddin Khan

سے اندازہ ہوتا ہے کہ پیغمبرِ اسلام سے استفادہ میں عائشہ کی حیثیت محض سامع کی نہیں ہوتی تھی بلکہ یہ وہی چیز تھی جس کو تبادلۂ خیال کہا جاسکتا ہے۔ اس طرح عائشہ صدیقہ نے ایک موقع پر پیغمبرِ اسلام سے یہ سوال کیا کہ مشرکین نے اگر کوئی نیک کام کیا ہے تو اس کی جزا اُن کو ملے گی یا نہیں۔ اس سلسلہ میں عائشہ صدیقہ نے عبداللہ بن جدعان کی مثال دی۔ وہ مشرک تھا اور شرک کی حالت ہی میں اُس کا انتقال ہوا۔ مگر وہ ایک اعلیٰ اخلاق کا آدمی تھا۔ وہ لوگوں کی مدد کیا کرتا تھا۔ عائشہ صدیقہ نے سوال کیا کہ کیا عبداللہ بن جدعان کا یہ اخلاقی عمل اُس کو آخرت میں فائدہ دے گا۔ پیغمبرِ اسلام نے فرمایا کہ نہیں۔ کیوں کہ اُس نے کبھی یہ نہیں کہا کہ: رَبِّ اغْفِرْ لِی خَطِیئَتِی يَوْمَ الدِّينِ (صحیح مسلم، حدیث نمبر 214)۔ یعنی، اے میرے رب، جزا کے دن تو میرے گناہوں کو معاف فرما۔ اس سلسلہ کا ایک واقعہ یہ ہے کہ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بار یہ فیصلہ فرمایا کہ وہ ایک ماہ تک اپنی ازواج سے الگ رہیں گے۔ اس کو تاریخ میں ایلاء کا واقعہ کہا جاتا ہے۔ یہ اعلان کر کے آپ ایک قریبی مکان کی چھت پر چلے گئے۔ ایلاء کا یہ معاملہ ہجری مہینہ کی یکم تاریخ کو شروع ہوا۔ 29 دن پورا ہونے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم چھت سے اُترے۔ جب آپ عائشہ صدیقہ کے حجرہ میں آئے تو اؔنہوں نے کہا کہ اے خدا کے رسول، آپ نے تو ایک مہینہ تک الگ رہنے کو کہا تھا اور ابھی مہینہ کے تیس دن پورا ہونے میں ایک روز باقی ہے۔ آپ نے فرمایا کہ مہینہ 29 دن کا بھی ہوتا ہے اور جبریل نے مجھے یہ خبر دی ہے کہ آج چاند ہوگیا (صحیح البخاری، حدیث نمبر 378)۔ عائشہ صدیقہ کے مذکورہ سوال و جواب سے ایک مزید دینی مسئلہ معلوم ہوتا ہے جس کا تعلق رویتِ ہلال سے ہے۔ اس سے یہ مسئلہ مستنبط ہوتا ہے کہ نئے چاند کے معاملہ میں اگر عینی مشاہدہ نہ ہوا ہو، تاہم قابلِ اعتماد خبر سے 29 تاریخ کو معلوم ہو جائے کہ چاند ہوگیا ہے تو

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page