Urdu book · عورت معمارِ انسانیت

عورت سرمایہ حیات

Urdu book, p. 108

By Maulana Wahiduddin Khan

اس کو تسلیم کر لیا جائے گا اور اُس کی بنیاد پر عبادت کا نظام قائم کیا جائے گا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ شریعت میں بالواسطہ روایت کی اہمیت بھی اتنی ہی ہے جتنی کہ براہ راست روایت کی اہمیت۔ ایک مرتبہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آنے کی اجازت چاہی۔ آپ نے فرمایا۔ آنے دو، وہ اپنے خاندان میں برا ہے۔ جب وہ آ کر بیٹھا تو آپ نے اس سے نرمی کے ساتھ گفتگو کی۔ عائشہ صدیقہ کو تعجب ہوا۔ جب وہ چلا گیا تو عائشہ نے پوچھا کہ اے اللہ کے رسول، آپ تو اس کو اچھا نہیں جانتے تھے، لیکن جب وہ آیا تو آپ نے اس سے نرمی کے ساتھ گفتگو کی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عائشہ، سب سے بڑا آدمی وہ ہے جس کی بداخلاقی سے ڈر کر لوگ اُس سے ملنا چھوڑ دیں (صحیح البخاری، حدیث نمبر 6032)۔ ایک دفعہ آپ نے فرمایا کہ اعتدال کے ساتھ کام کرو۔ لوگوں کو اپنے نزدیک کرو اور خوش خبری سناؤ کہ لوگوں کا عمل اُن کو جنت میں نہ لے جائے گا۔ عائشہ صدیقہ کو یہ آخری بات عجیب معلوم ہوئی۔ وہ سمجھیں کہ جو لوگ معصوم ہیں وہ تو اس سے مستثنیٰ ہوں گے۔ پوچھا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، کیا آپ کو بھی نہیں۔ فرمایا کہ نہیں، لیکن یہ کہ خدا اپنی مغفرت اور رحمت سے مجھے ڈھانک لے (صحیح البخاری، حدیث نمبر 6467)۔ ایک بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چند یہودی آئے۔ انہوں نے السلام علیک (تم پر سلامتی ہو) کے بجائے زبان دبا کر السَّلامُ عَلَيْك (تم کو موت آئے) کہا۔ عائشہ سُن رہی تھیں ۔ وہ ضبط نہ کر سکیں اور بولیں عَلَيْكُمُ السَّلامُ وَ اللَّعْنَةُ (تم پر موت اور لعنت )۔ پیغمبر اسلام نے فرمایا کہ تم کو نرمی اختیار کرنا چاہیے۔ خدا ہر بات میں نرمی پسند کرتا ہے (صحیح البخاری، حدیث نمبر 6395)۔ ایک روایت کے مطابق، عائشہ صدیقہ کہتی ہیں کہ ایک مجلس میں صفیہ (زوجہ رسول) کا ذکر

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page