عورت سرمایہ حیات
Urdu book, p. 109
By Maulana Wahiduddin Khan
ہوا۔ صفیہ کسی قدر پستہ قد تھیں۔ عائشہ صدیقہ نے ہاتھ سے اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ صفیہ تو بس اتنی ہیں (یعنی وہ پستہ قد ہیں)۔ رسول اللہ نے فرمایا کہ تم نے ایسی بات کہی کہ اگر وہ سمندر میں ڈال دی جائے تو سمندر کا پانی بھی آلودہ ہوجائے (سنن ابی داؤد، حدیث نمبر 4875)۔ اسی طرح کی ایک اور روایت عائشہ صدیقہ سے مروی ہے جس میں پیغمبر اسلام نے عائشہ صدیقه کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: إِيَّاكِ وَ مُحَقَّرَاتِ الذُّنُوبِ (مسند احمد، حدیث نمبر 25177) یعنی، تم چھوٹے گناہوں سے بچو۔ ان دونوں روایتوں سے ایک نہایت اہم بات معلوم ہوتی ہے۔ وہ یہ کہ آدمی کو اُن گناہوں سے بھی بچنے کا شدید اہتمام کرنا چاہیے جن کو لوگ معمولی سمجھتے ہیں اور بار بار اُس میں ملوث ہوتے رہتے ہیں۔ کیوں کہ اس طرح کی عادت عورت یا مرد کو گناہوں کے بارے میں غیر حساس بنا دیتی ہے۔ اور جو عورت یا مرد چھوٹے گناہ کے بارے میں حساسیت کھودے وہ آسانی سے بڑے گناہ میں بھی مبتلا ہو جائے گا۔ ایک موقع پر آپ نے دعا مانگی: خداوندا، مجھے مسکین زندہ رکھ اور حالت مسکینی ہی میں موت دے، اور مسکینوں کے ساتھ قیامت میں اٹھا۔ عائشہ صدیقہ نے عرض کیا کہ یہ کیوں، یا رسول اللہ۔ آپ نے فرمایا کہ مسکین، دولتمندوں سے چالیس سال پہلے جنت میں جائیں گے۔ اے عائشہ، تم کسی کو خالی ہاتھ واپس نہ کرنا، اگرچہ وہ چھوہارے کا ایک ٹکڑا ہی کیوں نہ ہو۔ مسکینوں سے محبت رکھو اور اُن کو اپنے پاس جگہ دیا کرو (سنن الترمذی، حدیث نمبر 2352)۔ مذکورہ روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ پیغمبر اسلام اور عائشہ صدیقہ کے درمیان محبت کا جو تعلق تھا وہ سادہ طور پر متکلم اور سامع کا تعلق نہ تھا۔ بلکہ وہ دو طرفہ گفتگو اور تبادلۂ خیال کا تعلق تھا۔ یہ گویا ایک قسم کا مذاکرہ تھا۔ اس مذاکرہ کے دوران باتوں کی وضاحت ہوتی تھی۔ سوال وجواب کی صورت میں معاملہ کے مختلف گوشے واضح ہوتے تھے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader