عورت سرمایہ حیات
Urdu book, p. 110
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن میں رسول کے چار کام بتائے گئے ہیں جن میں سے ایک تزکیہ (3:164) ہے۔ تزکیہ سے مراد کوئی پر اسرار (mysterious) چیز نہیں ۔ وہ ایک معلوم چیز ہے۔ اس سے وہی چیز مراد ہے جس کو ذہنی ارتقاء (intellectual development) کہا جاتا ہے ۔ ذہنی ارتقاء ہی کے ایک نتیجہ کا نام روحانی ارتقاء ہے۔ عائشہ صدیقہ کو یہ تمام فکری اور روحانی فائدے پیغمبر اسلام سے مسلسل استفادہ کے ذریعہ حاصل ہوئے۔ استنباطات عائشہ عائشہ صدیقہ سے حدیث کی مختلف کتابوں میں جو روایتیں منقول ہیں اُن کی کل تعداد 2210 ہے۔ تعداد روایت کے اعتبار سے بعض دوسرے صحابی اُن سے آگے ہیں۔ مثلاً ابو ہریرہ کی روایتوں کی تعداد 5364 ہے۔ عبد اللہ بن عمر کی روایتوں کی تعداد 2630 ہے۔ انس بن مالک کی روایتوں کی تعداد 2286 ہے۔ مگر ایک معاملہ میں عائشہ صدیقہ کا درجہ سب سے بڑھا ہوا ہے۔ اور وہ ہے ، حدیثوں کی تشریح اور اُن سے مسائل کا استنباط۔ عائشہ صدیقہ کو یہ امتیاز اس لیے حاصل ہوا کہ وہ پیغمبر اسلام سے قریبی صحبت کی بنا پر پیغمبر اسلام کے مزاج کے بارے میں زیادہ گہری واقفیت رکھتی تھیں۔ یہاں اس سلسلہ میں کچھ مثالیں نقل کی جاتی ہیں: ا۔ صحیح البخاری میں عائشہ صدیقہ کی ایک تفصیلی روایت آئی ہے۔ اس کا ترجمہ یہ ہے: قرآن میں سب سے پہلے جو سورتیں نازل ہوئیں وہ مفصل کی سورتیں ہیں جن میں جنت اور دوزخ کا ذکر ہے ۔ یہاں تک کہ جب لوگ اسلام کی طرف مائل ہوئے تو پھر حلال و حرام کے احکام اُترے۔ اگر پہلے ہی یہ اُترتا کہ شراب مت پیو تو لوگ کہتے کہ ہم شراب ہرگز نہ چھوڑیں گے۔ اور اگر یہ اُترتا کہ زنا نہ کرو تو لوگ کہتے کہ ہم ہرگز زنا نہ چھوڑیں گے۔ مکہ میں جب میں کھیلتی تھی تو قرآن کی یہ آیت اُتری: اُن کے وعدہ کا وقت قیامت ہے اور قیامت نہایت سخت اور نہایت تلخ چیز ہے۔ سورۂ بقرہ اور سورۂ نساء جب اتری تو

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader