عورت سرمایہ حیات
Urdu book, p. 111
By Maulana Wahiduddin Khan
میں آپ کے پاس تھی ( صحیح البخاری ، حدیث نمبر 4993 ) ۔ عائشہ صدیقہ نے اپنی اس روایت میں جو بات کہی وہ انہی لفظوں میں قرآن وحدیث میں موجود نہیں ۔ مگر پیغمبر اسلام کی مسلسل محبت کے ذریعہ انہیں یہ حقیقت معلوم ہوئی کہ قرآن کے احکام کے نزول میں تدریج کا اُصول رکھا گیا ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ قرآن پر مبنی سماج بنانے کے عمل کا آغاز حدود اور قانون کے احکام کے نفاذ سے نہیں ہو سکتا ۔ بلکہ اُس کا صحیح آغاز یہ ہے کہ پہلے انسان کی سوچ بدلی جائے ۔ انسان کے اندر احکام کی قبولیت کا جذبہ پیدا کیا جائے ۔ یعنی فکری انقلاب کے بعد ہی یہ ممکن ہے کہ عملی احکام کو کسی سماج میں نافذ کیا جائے۔ عائشہ صدیقہ کو یہ اہم حقیقت یقینی طور پر پیغمبر اسلام سے طویل مذاکرہ کے ذریعہ معلوم ہوئی۔ 2 ۔ عائشہ صدیقہ کی ایک روایت اس طرح آئی ہے : مدینہ کی جنگ بُعاث وہ واقعہ تھا جس کو اللہ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے پہلے سے طے کر دیا تھا ۔ رسول اللہ مدینہ آئے تو اُس وقت اہل مدینہ کی جمعیت منتشر ہو گئی تھی ۔ اُن کے سردار باہمی جنگ میں مارے جا چکے تھے۔ اللہ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی خاطر اُن کے اسلام میں داخل ہونے کے لیے یہ واقعہ پہلے ہی سے مہیا کر دیا تھا ( صحیح البخاری ، حدیث نمبر 3777 ) ۔ مکہ کے لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مشن کی سخت مخالفت کی ۔ جب کہ اُس سے تین سومیل دور واقع مدینہ میں آپ کا پیغام کسی مزاحمت کے بغیر پھیل گیا۔ یہ فرق کیوں تھا ۔ اس کا جواب عائشہ صدیقہ کی مذکورہ روایت میں ملتا ہے۔ جیسا کہ معلوم ہے ، مکہ اور مدینہ کے اس فرق کا معاملہ قرآن یا حدیث رسول میں مذکور نہیں ۔ پھر عائشہ صدیقہ کو یہ اہم حقیقت کیسے معلوم ہوئی ۔ اُس کا ذریعہ صحبت رسول تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی گفتگوؤں میں اس سلسلہ میں جو باتیں کہتے تھے اُس سے عائشہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader