عورت سرمایہ حیات
Urdu book, p. 113
By Maulana Wahiduddin Khan
سیاسی حکمت (political wisdom) جو عائشہ صدیقہ کے ذریعہ امت کو معلوم ہوئی وہ غالباً کسی اور کے ذریعہ معلوم نہ ہوسکی۔ 4۔ عائشہ صدیقہ کی ایک روایت یہ ہے کہ بڑا گنہگار وہ شاعر ہے جو تمام قبیلہ کی ہجو کرے_ یعنی صرف ایک دو شخص کی برائی کے سبب سے پورے قبیلہ کو برا کہہ دینا ایک عظیم اخلاقی بُرائی ہے (الادب المفرد للبخاری ، حدیث نمبر 874)۔ عائشہ صدیقہ کی اس روایت سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ تنقید میں جنرلائزیشن نہایت بُری چیز ہے۔ عام طور پر ایسا ہوتا ہے کہ کسی قوم یا قبیلہ کے ایک فرد کی کوئی بُرائی سامنے آئے تو لوگ اس کو لے کر پوری قوم یا قبیلہ کو بُرا بتانے لگتے ہیں۔ یہ طریقہ اخلاقی نقطۂ نظر سے غیر ذمہ دارانہ اور اسلامی نقطۂ نظر سے ناجائز ہے۔ زندگی کا یہ گہرا اصول بھی اتنے واضح انداز میں غالباً صرف عائشہ کے ذریعہ بیان ہوسکا۔ 5۔ ابوسلمہ تابعی کہتے ہیں کہ اُن کے اور کچھ لوگوں کے درمیان (زمین کے بارے میں) ایک نزاع تھی۔ اس کا ذکر انہوں نے عائشہ صدیقہ سے کیا تو انہوں نے کہا کہ اے ابوسلمہ، تم اس زمین کو چھوڑ دو۔ کیوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ بالشت بھر زمین کے لیے بھی اگر کوئی ظلم کرے گا تو ساتوں طبقے اُس کے گلے میں ڈالے جائیں گے: أَنْ أَبَا سَلَمَةَ، حَدَّثَهُ أَنَّهُ، كَانَتْ بَيْنَهُ وَبَيْنَ أُنَاسٍ خُصُومَةٌ فَذَكَرَ لِعَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، فَقَالَتْ: يَا أَبَا سَلَمَةَ اجْتَنِبِ الْأَرْضَ، فَإِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ ظَلَمَ قِيدَ شِبْرٍ مِنَ الْأَرْضِ طُوِّقَهُ مِنْ سَبْعِ أَرَضِينَ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 2453)۔ عائشہ صدیقہ کی اس روایت سے ایک اہم اجتماعی مسئلہ معلوم ہوتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب دو شخص یا دو گروہ کے درمیان مادی نزاع پیدا ہو اور دو طرفہ بنیاد پر وہ مسئلہ حل نہ ہورہا ہو، ایسی صورت میں دونوں فریقوں میں سے بہتر فریق وہ ہے جو معاملہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader